بی جے پی جموں وکشمیر صدر کے متنازعہ ریمارکس
جموں 26اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام ) بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر یونٹ کے صدر رویندر رینہ نے ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے غدار ہیں۔انہوں نے کہا کہ آنجہانی نہرو انگریزوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ جموں وکشمیر بھارت کا حصہ بنے ۔ رویندر رینہ جمعہ کے روز یہاں ترکوٹہ نگر میں واقع بی جے پی دفتر پر منعقدہ ‘ولے دیوس (یوم الحاق)’ کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بی جے پی ہر سال 26 اکتوبر کو سنہ 1947 ء میں آج ہی کے دن ریاست کے آخری مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے بھارت کے ساتھ کئے گئے الحاق کو ‘ویلے دیوس’ کے طور پر مناتی ہے ۔ رویندر رینہ نے دعویٰ کیا کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ جموں وکشمیر کا غیرمشروط الحاق کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اکتوبر 1947 ء میں جموں وکشمیر پر حملہ کرنے والے قبائلی نہیں بلکہ پاکستانی فوج کے تربیت یافتہ اہلکار تھے ۔ بی جے پی ریاستی صدر نے آنجہانی نہرو کو غدار قرار دیتے ہوئے کہا ‘مہاراجہ ہری سنگھ سچے ہندوستان تھے ۔ انہوں نے بار بار کہا تھا کہ میں ہندوستان کے ساتھ جاؤں گا۔ جب الحاق نامے کی دستاویز تیار کی جارہی تھی تو بھارت کے آخری گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن نے پنڈت جواہر لال نہرو کو بلایا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو بھارت کے پہلے وزیر اعظم تو بنے لیکن جتنی غداری انہوں نے ہندوستان سے کی ہے ، اتنی غداری کسی نے نہیں کی ہے ۔ بہت بڑے غدار تھے جواہر لعل نہرو۔ بھارت کی تاریخ میں ان سے بڑا غدار کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ ملکر بھارت ماتا کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ‘۔انہوں نے کہا ‘نوابی ریاستوں کو بھارت سے ملانے کا کام سردار ولبھ بھائی پٹیل کو دیا گیا۔ لیکن جواہر لال نہرو نے جان بوجھ کر جموں وکشمیر امور ولبھ بھائی پٹیل کے حوالے نہیں کئے ۔ یہ سب کچھ لارڈ ماونٹ بیٹن کے کہنے پر کیا گیا۔ کیونکہ برطانیہ کے وزیراعظم نے ماونٹ بیٹن سے کہا تھا کہ جموں وکشمیر بھارت کے ساتھ نہیں جانا چاہیے ‘۔