پندرہ ممالک کے ارب پتیوں کی فہرست میں ہندوستان کو گیارہواں مقام

ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد 263 تک پہونچ گئی ۔ امریکہ سرفہرست
حیدرآباد۔22جون(سیاست نیوز) دنیا میں معاشی انحطاط اور عالمی معیشت کے کمزور ہونے کی شکایات کے علاوہ ہندستان کے معاشی حالات میں پیدا ہونے والی خرابی کی شکایات اپنی جگہ ہے لیکن ان شکایات کے درمیان ارب پتی افراد کی فہرست میں نئے ناموں کے اندراج سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معیشت کمزور ہویا انحطاط کا شکار ہو جو ترقی کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے حالات معنی نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنی محنت اور جستجو سے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کی ان منزلوں پر پہنچ ہی جاتے ہیں جہاں انہیں دنیا کی چنندہ اہم شخصیات میں شمار کیا جانے لگتا ہے۔ دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد کے سلسلہ میں کیپ جمنی کمپنی کی جانب سے جاری کردہ مالی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ہندستان میں ارب پتی اسپین‘ ساؤتھ کوریا‘ روس اور نیدر لینڈ سے زیادہ ہیں اور تعداد کے اعتبار سے ہندستانی ارب پتی افراد کی فہرست 263تک پہنچ چکی ہے جو کہ گذشتہ میں 219 ریکارڈ کی گئی تھی ۔دنیا بھر کے 15ممالک میں موجود ارب پتیوں کی فہرست کی تیاری کے دوران ہندستان کو 11واں مقام حاصل ہوا ہے جبکہ سر فہرست 5285 ارب پتی افراد کے ساتھ امریکہ ہے جہاں گذشتہ میں ارب پتی افراد کی تعداد 4795ریکارڈ کی گئی تھی دوسرے نمبر پر جاپان ہے جہاں تعداد 3162 ارب پتی افراد ہیں جبکہ جرمنی نے 1365ارب پتی افراد کے ساتھ تیسرا مقام حاصل کیا ہے اور چین 1256ارب پتیوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ برطانیہ میں 575 ارب پتی افراد ہیں جو کہ چھٹویں نمبر پر ہے۔ کینیڈا میں ارب پتی افراد کی فہرست میں 377افراد ہیں جبکہ آسٹریلیاء کی فہرست میں 278افراد ہیںاور آسٹریلیاء دنیا کے ان 15 ممالک میں 9ویں نمبر ہے جبکہ اٹلی کا نمبر ارب پتی افراد کی تعداد کے اعتبار سے 10پر آتا ہے جبکہ ہندستان 263افراد کے ساتھ 11ویں نمبر پر ہے۔ عالمی معیشت میں انحطاط کی اطلاعات کے دوران ارب پتیوں کی تعداد میں اضافہ کی رفتار کو دیکھتے ہوئے ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ارب پتی افراد کی تعداد میں اضافہ کی علحدہ علحدہ وجوہات ہیں اوران وجوہات کو بنیادی معاشی ڈھانچہ سے مربوط کرتے ہوئے نہیں دیکھا جا سکتا ۔15ممالک کی فہرست میں سب سے آخر میں روس ہے جہاں 189 ارب پتی افراد ہیں ۔رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ارب پتی افراد کی تعداد میں گذشتہ 6برسوں کے دوران اضافہ ہی ریکارڈ کیا جا رہاہے۔