آچے ( انڈونیشیا)، 19 مئی (سیاست ڈاٹ کام) کشیوں پر سوار خلیج بنگال میں بھٹکتے پناہ کے متلاشی روہنگیا اور بنگلہ دیشی مہاجرین کے درمیان خونریز لڑائی کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عالمی اداروں کے مطابق کشتیوں میں سوار ہزاروں مہاجرین بھٹک رہے ہیں اور کوئی ملک انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ایسی ہی ایک کشتی کے بچ جانے والے مسافروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ روہنگیا اور بنگلہ دیشی مہاجرین کے درمیان لڑائی میں کلہاڑیاں، چاقو اور دھاتی سلاخیں استعمال کی گئیں۔ ان کی کشتی کو گزشتہ ہفتے اس کا عملہ چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔ خونریز لڑائی کی وجہ کھانے پینے کی ناکافی اشیاء پر شروع ہونے والا ایک تنازعہ بنا۔ انڈونیشیا کے جزیرہ آچے کے ایک کیمپ تک پہنچنے والے بعض متاثرہ مہاجرین نے بتایا کہ جمعرات 14 مئی کو شروع ہونے والی اس لڑائی میں ایک سو سے لے کر دو سو تک افراد ہلاک ہوئے۔ پناہ کے متلاشی جو مسافر زندہ بچے، ان کے جسموں پر بھی زخموں اور تشدد کے نشانات موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ کشتی پر کئی سو غیر قانونی مہاجرین سوار تھے۔ یہ مہاجرین ان تقریباً تین ہزار روہنگیا اور بنگلہ دیشی باشندوں میں شامل ہیں جو تھائی لینڈ کی طرف سے انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کے بعد گزشتہ ہفتے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساحلوں تک پہنچے ہیں۔ کشتی پر لڑائی شروع ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے اپنی جانیں بچانے کیلئے سمندر میں چھلانگیں لگا دیں۔ ایسے افراد میں سے زندہ بچ جانے والوں کو مقامی مچھیروں نے سمندر سے نکالا اور انہیں کنارے پر لائے۔ دونوں گروپ لڑائی شروع کرنے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ زیادہ تر مہاجرین کو صوبہ آچے کے شہر لانگسا میں رکھا گیا ہے۔ انہی میں سے 22 سالہ روہنگیا حسینہ بیگم نے نیوز ایجنسی کو تمام روداد سے واقف کرایا۔