حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : شہر حیدرآباد کو پلاسٹک سے پاک کرنے کے لیے جی ایچ ایم سی کی اب تمام تر توجہ فنکشن ہالس کی سمت مرکوز ہوچکی ہے کیوں کہ دونوں شہروں میں سینکڑوں فنکشن ہالس موجود ہیں جہاں یومیہ تقاریب میں پلاسٹک کا ساز و سامان نہ صرف کھانے پینے کے برتنوں کے طور پر استعمال ہوتا ہے بلکہ اسٹیج کو سجانے کے لیے بھی پلاسٹک کی اشیاء بھی استعمال کی جاتی ہیں لیکن اب انتظامیہ نے فنکشن ہالس میں پلاسٹک کی اشیاء کو کم از کم استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے حیدرآباد کو پلاسٹک سے پاک شہر بنانے کے لیے کوشاں ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے کمشنر بی جناردھن ریڈی نے تمام ڈپٹی کمشنرس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ہفتہ کی بنیاد پر ’ گرین فنکشن ہال ‘ یا ’ ایک قدم ہریالی کی سمت ‘ کے تحت کام کریں ۔ کمشنر نے جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ فنکشن ہالس اور کیٹرس کے ارباب محاز اور انتظامیہ سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہیں پلاسٹک کی اشیاء کی بجائے متبادل اشیاء کے استعمال کے لیے حوصلہ افزائی کریں اور پلاسٹک کے برتن اور گلاسس استعمال کو ترک کرتے ہوئے ان کے مقام پر اسٹیل کے برتن استعمال کرنے کی ترغیب دیں ۔ علاوہ ازیں فنکشن ہالس میں تقاریب کے لیے تیار کئے جانے والے اسٹیج پر پلاسٹک کی بجائے دیگر اشیاء کے استعمال کی بھی ہدایت دیں ۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں 4000 کے قریب فنکشن ہالس موجود ہیں ۔ لہذا کمشنر نے فنکشن ہالس کے انتظامیہ ، عوام ، تنظیموں اور شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی تقاریب میں پلاسٹک کے استعمال میں حتی الامکان کمی کی کوشش کریں ۔ کھانے پینے کے برتن کے لیے پلاسٹک کی بجائے اسٹیل کے برتنوں کو ترجیح دیں جب کہ اسٹیج کی سجاوٹ کے لیے پلاسٹک کے بجائے قدرتی پھولوں اور دیگر اشیاء کا استعمال کریں ۔