چائے کی پلاسٹک کپ اور گلاس پر بھی امتناع ، وزارت بلدی نظم و نسق تلنگانہ کے احکامات
حیدرآباد۔13جون(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے کسی بھی شہری بلدی دفتر میں پلاسٹک کے استعمال پر ریاستی وزارت بلدی نظم و نسق کی جانب سے پابندی عائد کرنے کے احکام جاری کردیئے گئے ہیں اور سیکریٹری وزارت بلدی نظم و نسق مسٹر اروند کمار کی جانب سے جاری کردہ احکام کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر بلدی دفاتر میں اب بوتل بند پانی جو پلاسٹک کے بوتل میں آیاکرتا تھا اس کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور اس کے علاوہ چائے کیلئے استعمال کی جانے والی پلاسٹک کی کپ اور گلاس پر بھی امتناع عائد رہے گا۔ سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے جاری کردہ احکام کے مطابق شہری بلدیات میں 50مائیکرون سے کم کی پلاسٹک کا استعمال ممنوع رہے گا۔ انہوں نے تمام بلدیات کے اعلی عہدیداروں کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے اپنے دفتر میں بوتل بند پانی کے استعمال کو ترک کرتے ہوئے یہ مثال قائم کی ہے اور بلدی عہدیداروں کو بھی چاہئے کہ وہ شہریوں کو منع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دفاتر میں بھی اس بات پر عمل آوری کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے۔ مسٹر اروند کمار نے روانہ کردہ مکتوب میں عہدیداروں کو اس بات سے واقف کروایا کہ پلاسٹک کا استعمال ماحولیات کیلئے کس حد تک نقصاندہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیات میں پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرتے ہوئے عوام کو ایک بڑا پیغام دیا جاسکتا ہے اور اس پیغام کے ذریعہ عوام کو بھی پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے۔مسٹر اروند کمار کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان احکامات پر من و عن عمل آ وری کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عہدیداروں کے دفاتر میں استعمال کئے جانے والے پلاسٹک بوتل میں پانی اور پلاسٹک کے گلاس و کپ کے استعمال کو فوری اثر کے ساتھ بند کردیا جائے۔سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق نے کہا کہ کرۂ ارض کیلئے پلاسٹک سے زیادہ خطرناک کوئی شئے نہیں ہے کیونکہ پلاسٹک 500تا1000 سال تک باقی رہنے والی ہوتی ہے اسی لئے اس کے استعمال میں تخفیف کے ذریعہ ہی ماحولیات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ ہزاروں کیلو پلاسٹک کے استعمال کے سبب کرۂ ارض کی تباہی ہو رہی ہے اوراسی لئے دنیا کے بیشتر ممالک میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کی جا رہی ہے اور اسے قابل عمل بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بلدی عہدیدارو ں کو مشورہ دیا کہ وہ ان احکامات پر عمل آوری کے ساتھ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے اقدامات کو بھی یقینی بنائیں۔