حکومت تلنگانہ کا سال 2022 ء تک پلاسٹک کے استعمال سے پاک بنانے کا عزم، حکومت کے اقدام پر ستائش و تنقیدیں
حیدرآباد۔17جون(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ کو 2022تک پلاسٹک کے استعمال سے پاک ریاست بنانے کے عز م کو پورا کرنے کیلئے حکومت کے مختلف محکمہ جات کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور وزارت بلدی نظم و نسق کی جانب سے ریاست میں موجود تمام بلدی دفاتر میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی کے بعد اب محکمہ آبرسانی کی جانب سے اس بات پر غور کیا جا رہاہے کہ آئندہ چند یوم میں حکومت کی جانب سے منظوری کے حصول کے بعد پیپر بوتل کو فروغ دیا جائے تاکہ پلاسٹک کے استعمال کو ترک کرنے کے لئے متبادل کی فراہمی کو وقت سے پہلے یقینی بنایا جاسکے کیونکہ حکومت کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال پر عائد کی جانے والی پابندی کی جہاں ستائش کی جا رہی ہے وہیں اسے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جانے لگا ہے کیونکہ پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے سلسلہ میں احکامات کے بعد متبادل پر غور کیا جا رہاہے جبکہ متبادل پر غور کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کے بعد پابندی عائد کی جانی چاہئے ۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر حیدرآباد میں محکمہ آبرسانی کی جانب سے پلاسٹک کے متبادل کے طور پر کاغذ سے تیار کی جانے والی بوتل کو بازار میں پیش کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہاہے اور اس منصوبہ پر عمل آوری کیلئے حکومت کی جانب سے منظوری کا انتظار ہے۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے پلاسٹک کے خلاف چلائی جانے والی مہم اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے لگائے جانیو الے بیانرس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے کیونکہ اس مہم میں ہی پلاسٹک کے تیار کردہ فلیکس بیانرس کا استعمال کیا جا رہاہے جس پر تحریر پلاسٹک کے خلاف موجود ہے۔ریاست کے مختلف محکمہ جات میں ایک مرتبہ کے استعمال کے جو گلاس‘ کپ‘ پلیٹ اور چمچ کا استعمال ہوتا ہے ان محکمہ جات کو بھی اس بات کی تاکید کی جا رہی ہے کہ وہ پلاسٹک کے اشیاء کے استعمال کو ترک کریں ۔محکمہ جات کے عہدیداروں کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحتین کو اس بات کا پابند بنائیں کہ ان کے محکمہ میں پلاسٹک کے استعمال کو بند کیا جائے۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی اور اس کے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے لگائے جانے والے بیانرس سوشل میڈیا پر موضوع مذاق بنے ہوئے ہیں کیونکہ فلیکس کے استعمال کو ترک کرنے کی ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ متعدد مرتبہ تاکید کرچکے ہیں اور یہ اپنی ہی پارٹی کے کارپوریٹرس کو غیر مجاز بیانرس کی تنصیب پرجی ایچ ایم سی کے ذریعہ چالان کرواچکے ہیں لیکن جی ایچ ایم سی کی جانب سے ہی جب فلیکس بیانرس اور پانی کے پلاسٹک بوتل کا استعمال کیا جانے لگے تو ان کے خلاف کاروائی کو ن کرے!مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اورمحکمہ بلدی نظم ونسق کو احکامات کی اجرائی کے ساتھ ساتھ متبادل پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ متبادل کی پیشکشی تک کوئی بھی پابندی کارآمد ثابت نہیں ہوتی کیونکہ پلاسٹک کی بیشتر اشیاء روزمرہ کی ضرورتوں میں شامل ہوچکی ہیںاسی لئے اس کے استعمال کو ترک کرنے کے لئے متبادل پر توجہ مبذول کروانا ضروری ہے۔