اسلام آباد 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی فوج نے طالبان کی جانب سے پشاور کے اسکول پر کئے گئے وحشیانہ حملہ کے جواب میں کارروائی شروع کی ہے اور خیبر قبائلی علاقہ میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے شروع کئے ہیں جن کے نتیجہ میں کم از کم 57 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ شبہ ہے کہ پشاور کے اسکول پر جن خود کش بمباروں نے حملے کئے تھے انہیں خیبر علاقہ ہی میں تربیت دی گئی تھی ۔ فوج نے خیبر قبائلی علاقہ میں وادی تیراہ میں طالبان کے خفیہ ٹھکانوں کے خلاف 20 فضائی حملے کئے تھے جو پشاور سے متصل ہے ۔ ان کارروائیوں میں تقریبا 57 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک فوجی ترجمان نے یہ بات باتئی ۔ یہ حملے ان اطلاعات کے بعد شروع کئے گئے ہیں کہ جو عسکریت پسند پشاور فوجی اسکول پر حملہ میں ملوث رہے ہیں انہیں خیبر کے بارہ علاقہ میں تربیت دی گئی تھی ۔
پشاور فوجی اسکول پر ہوئے حملے میں تقریبا 148 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں 132 اسکولی بچے شامل تھے ۔ فوج نے کہا کہ خیبر علاقہ میں فوج کی جو کارروائیاں ہوئی ہیں ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ پاکستان نے کل عہد کیا تھا کہ اندرون ایک ہفتہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ایک منصوبہ کا اعلان کیا جائیگا ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اس سارے علاقہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے ۔ طالبان کے ترجمان نے ادعا کیا تھا کہ اس کے 6 خود کش بمباروں نے فوجی اسکول پر حملہ کیا تھا اور یہ حملہ شمالی وزیرستان کے علاقہ میں فوجی کارروائیوں کا جواب تھا ۔ اس دوران ایک اور اطلاع میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے 16 ٹاپ عسکریت پسندوں نے جن میں ملا فضل اللہ بھی شامل تھے پشاور اسکول کا منصوبہ تیار کیا تھا ۔ اس تعلق سے اجلاس افغانستان میں جاریہ ماہ کے اوائل میں منعقد ہوا تھا ۔ پاکستانی عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ عہدیداروں کے بموجب پشاور اسکول حملہ کی ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ یہ طالبان کے 16 عسکریت پسندوں نے افغانستان میں ڈسمبر کے اوائل میں منعقدہ اجلاس میں اس حملہ کا منصوبہ تیار کیا تھا ۔ طالبان کا سربراہ ملا فضل اللہ اور اس کا نائب شیخ خالد حقانی اور طالبان کمانڈرس حافظ سعید ( جماعت الدعوۃ کا سربراہ نہیں ) حافظ دولت اور قاری سیف اللہ منصوبہ بندی میں شریک رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ خیبر ضلع میں سرگرم لشکر اسلام کا سربراہ منگل باغ بھی اس سازش کا حصہ رہا ہے ۔
عہدیداروں نے کہا کہ سات عسکریت پسندوں کو خیبر کے بارا علاقہ میں اس حملہ کی تربیت دی گئی تھی ۔ دریں اثنا پاکستان نے آج کہا کہ اسے افغانستان اور بین الاقوامی امن فوج کی قیادت سے یہ تیقن ملا ہے کہ پشاور اسکول قتل عام میں ملوث جو مشتبہ دہشت گرد سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جاگئیگی ۔ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے کل افغانستان کا غیر معلنہ دورہ کیا اور ان کے ہمراہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر بھی تھے ۔ انہوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی اور بین الاقوامی امن فوج کے کمانڈر جنرل جان کیمپ بیل سے بھی ملاقات کی تھی ۔ فوج نے کہا کہ افغانستان نے تیقن دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کیلئے افغانستان کی سرزمین کے استعمال کی اجازت ہرگز نہیں دی جائیگی ۔ بین الاقوامی امن فوج کے کمانڈر جنرل نے بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا تیقن دیا ہے ۔