پشاور 18 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) طالبان سربراہ ملا فضل اللہ اور اس کے نائب خالد حقانی کے علاوہ دیگر 14 طالبان کمانڈرس کو پشاور فوجی اسکول قتل عام کے مقدمہ میں ماخوذ کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کیا گیا ہے ۔ اس حملہ کے مقام کا تحقیقاتی عہدیداروں نے دورہ بھی کیا اور وہاں سے کچھ شواہد جمع کئے ۔ انہوں نے اس حملہ میں زندہ بچ جانے والوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرلئے ۔ اس مقدمہ کے ایف آئی آر میں تحریک طالبان پاکستان کے جن دیگر کمانڈرس کو شامل کیا گیا ہے ان میں حافظ گل بہادر ‘ سیف اللہ ‘ منگل باغ ‘ حافظ دولت ‘ سرور شاہ ‘ مولوی فقیر ‘ عبدالولی ‘ قاری شکیل ‘ اسلم فاروقی ‘ اورنگ ذیب اور جان ولی شامل ہیں۔ یہ ایف آئی آر مچنی گیٹ پولیس اسٹیشن میں اسٹیشن ہاوز آفیسر شیر علی خان کی جانب سے درج کیا گیا ہے ۔ انسداد دہشت گردی محکمہ سے موصولہ دستاویزات کے بموجب سات خود کش بمباروں ابوذر ‘ عمر ‘ عمران ‘ یوسف ‘ عذیر ‘ قاری
اور چمنے عرف چمٹو کا بھی ایف آئی آر میں نام شامل کیا گیا ہے ۔ خود کش بمباروں کے تعلق سے کہا گیا ہے کہ انہیں خیبر کے باڑا علاقہ میں شین درانگ مرکز میں تربیت دی گئی تھی جس کے بعد انہیں پشاور روانہ کیا گیا تھا ۔ دستاویز میں یہ بات بتائی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ اس انتہائی وحشیانہ اور غیر انسانی حملہ کی منصوبہ بندی مختلف تخریب کار تنظیموں کے ایک اجلاس میں کی گئی تھی جو ڈسمبر کے پہلے ہفتے میں افغانستان ۔ پاکستان سرحد کے قریب کسی علاقہ میں منعقد ہوا تھا ۔ علاوہ ازیں اس حملہ میں جو گاڑی استعمال کی گئی تھی اس کے مالک کی شناخت کرلی گئی ہے اور اسے گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ یہ گاڑی اسلام آباد سے سرقہ کی گئی تھی اور سیول لائینس پولیس اسٹیشن میں اس کی رپورٹ بھی درج ہے ۔ اس دوران تحقیقاتی ٹیم نے آرمی پبلک اسکول سے کچھ شواہد جمع کئے اور وہاں انہوں نے کچھ زندہ بچ جانے والے افراد کے بیانات قلمبند بھی کئے ۔ اس حملہ میں 148 افراد بشمول 132 بچے ہلاک ہوگئے تھے ۔