پشاور آرمی اسکول پر طالبان کا وحشیانہ حملہ ‘ درجنوں بچوں سمیت 141 جاں بحق

دیگر 130 زخمیوں میں اسٹوڈنٹس ، اسٹاف ممبرس ، کمانڈوز اور عہدیدار شامل
تحریک طالبان پاکستان کا ملٹری سے ’ضرب عضب‘ مہم کا انتقام لینے کا دعویٰ
وزیراعظم نواز شریف اور عالمی قائدین کا اظہار مذمت،پاکستان میں سہ روزہ سوگ

پشاور 16 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) زائد از 140 افراد جن میں لگ بھگ تمام اسکولی بچے ہیں، آج وحشیانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتاردیئے گئے ، جب بھاری مصلح طالبان خودکش بمباروں نے یہاں پاکستان آرمی کے زیر انتظام اسکول پر ہلہ بول کر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجہ میں دیگر 130 افراد زخمی بھی ہوگئے۔ پیراملٹری فرنٹیئر کورز کے یونیفارم میں ملبوس سات عربی بولنے والے دہشت گرد صبح تقریباً 10 بجے (مقامی وقت) ورسک روڈ پر واقع آرمی پبلک اسکول میں پیچھے کی سمت سے گھس آئے اور ایک سے دوسری کلاس روم میں جاکر معصوم بچوں پر بے دردانہ طریقہ سے فائرنگ کردی، جو کسی بھی جگہ نہایت سفاکانہ دہشت گرد حملوں میں سے ہے۔ چیف ملٹری ترجمان میجر جنرل عاصم باجوا نے آج رات نیوز کانفرنس کو بتایا کہ مہلوکین میں سے 132 بچے اور دیگر 9 اسٹاف ممبرس ہیں۔ جملہ 130 افراد …118 طلبہ، 3 ارکان اسٹاف ، 7 ایس ایس جی جوان اور دو عہدیدار… زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ 960 اسٹوڈنٹس اور اسٹاف ممبرس بچالئے گئے۔ باجوا نے کہا کہ تمام 7 عسکریت پسندوں کو آپریشنس میں ہلاک کردیا گیا جس میں اسپیشل سرویسز گروپ (ایس ایس جی) یا کمانڈوز حصہ لئے۔ بعض عسکریت پسندوں نے بتایا جاتا ہے کہ خود کو دھماکہ سے اڑا لیا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ یہ آپریشن ختم ہوچکا ہے،

اسکول کو اس کے انتطامیہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ایس ایس جی کے دستے ہٹالئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول میں حملہ کے وقت تقریباً 1,100 طلبہ و طالبات اور ارکان اسٹاف موجود تھے۔ قبل ازیں اطلاعات میں مہلوکین کی تعداد 160 بتائی گئی تھی لیکن بعد میں اسے گھٹادیا گیا۔

8 گھنٹے طویل تعطل کے دوران دہشت گردوں نے کئی افراد کو یرغمال بھی بنالیا تھا جن میں ٹیچرس اور اسکول پرنسپل شامل تھے، اور انہیں حملہ کے دوران انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا ۔ تحریک طالبان پاکستان نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے، جو کراچی میں 2008 ء کے خودکش بمباری کے بعد سے جس میں 150 افراد ہلاک ہوئے تھے، حالیہ برسوں کا مہلک ترین حملہ ہے۔ طالبان ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اس حملہ میں 6 خودکش بمبار شامل ہوئے اور یہ کہ یہ حملہ پشاور کے قریب شمالی وزیرستان قبائلی علاقہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری ملٹری آپریشن کا انتقام ہے۔ ’’ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا درد محسوس کریں‘‘ طالبان ترجمان نے یہ ریمارک کیا۔ جنرل باجوا نے کہا کہ حملہ آوروں کے زیادہ طویل کارروائی کے منصوبے تھے کیونکہ ان کے پاس کافی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود اور کھانے پینے کی اشیاء تھی لیکن انہیں ایس ایس جی نے کامیاب چال کے تحت ایک گوشہ تک محدود کرتے ہوئے ہلاک کردیا۔باجوا نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے کوئی مطالبات نہیں کئے اور وہ ظاہر طور پر یہی چاہتے تھے کہ افراد کو یرغمال بنانے کے بجائے ممکنہ طور پر زیادہ لوگوں کو ہلاک کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام عسکریت پسندوں کے پاس خودکش جیاکٹس تھے اور یہ بتانا ممکن نہیں کہ ان میں سے کتنے ایس ایس جی کی گولیوں کے سبب مارے گئے۔ ملٹری ترجمان نے بتایا کہ اسکول کو عسکریت پسندوں کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں دی گئی تھی لیکن آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے حملہ کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔

عالمی قائدین نے متحد ہوکر اس حملہ کی مذمت کی ہے جبکہ خود وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے اسے ’’قومی سانحہ‘‘ قرار دیا اور پشاور میں سیکوریٹی میٹنگ کی صدارت کی جہاں انہیں اس حملے اور آپریشن کے تعلق سے بریفنگ دی گئی۔ نواز شریف نے اعادہ کیا کہ ملٹری آپریشن ’ضرب عضب‘ جاری رہے گا جس کا مقصد ملک کی قبائلی پٹی سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا ہے۔ پاکستان میں سہ روزہ ملک گیر سوگ کا اعلان کیا گیا۔ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف بھی صورتحال کی نگرانی کیلئے پشاور پہنچ چکے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما نے پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد کیلئے امریکہ کی تائید کا عہد کیا اور پشاور میں آج کے ’ہولناک‘ طالبان حملے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس گھناؤنے حملے میں اسٹوڈنٹس اور ٹیچرس کو نشانہ بناکر دہشت گردوں نے پھر ایک بار اپنی لاچاری ظاہر کردی ہے۔ اقوام متحدہ میں سکریٹری جنرل بانکی مون نے بھی عالمی ادارہ کی طرف سے پشاور میں ’’بے یار و مددگار‘‘ بچوں پر خونریز طالبان حملے کی مذمت میں کہا کہ کوئی بھی کاز اس طرح کی بربریت کا جواز پیش نہیں کرسکتا ہے۔ بان نے کہا کہ ساری دنیا کی ہمدردیاں اس گھناؤنے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے والدین اور خاندانوں کے ساتھ ہیں۔

پشاور کا واقعہ انسانیت پر حملہ ، مودی کا نواز شریف کو فون
دریں اثناء وزیراعظم نریندر مودی نے پشاور کے اسکول میں ’’بزدلانہ‘‘ حملے کے تناظر میں پاکستانیوں کے دکھ میں شریک ہوتے ہوئے آج رات اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے فون پر بات کی اور رنج کی اس گھڑی میں ’’دلی ہمدردی اور تمام تر اعانت ‘‘ کی پیشکش کی۔ پاکستان کے ساتھ یگانگت کے طور پر مودی نے ہندوستان میں تمام اسکولس سے کل 2 منٹ کی خاموشی منانے کی اپیل کی ہے۔