پسماندہ اور اقلیتی طبقات کو آبادی کے تناسب سے تحفظات کا مطالبہ

ای وی ایم مشین سے دھاندلیوں پر کانفرنس، جناب ظہیرالدین علی خاں اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔23نومبر(سیاست نیوز) تحفظات کے بغیر پسماندہ طبقات کی ترقی کو غیر یقینی قراردیتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ پچھلے ساٹھ سالوں سے ہر قسم کی ظلم وزیادتیوں کا شکار پچھڑے‘ پسماندہ اور اقلیتی طبقات کی فلاح وبہبود کے لئے انہیں آبادی کے تناسب سے تحفظات کی فراہمی ضروری ہے۔سندریاوگینان کیندرم میںبی اے ایم سی ایف اور بھارت مکتی مورچہ کے زیراہتمام ای وی ایم مشین کے ذریعہ انتخابی دھاندلیوں کے عنوان پر منعقدہ ریاستی کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے دلت اور اقلیتی طبقات کے اندر اعتماد کی بحالی کے لئے مرکزی اور ریاستی حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ جناب ظہیر الدین علی خان نے بام سیف اور بھارت مکتی مورچہ کی جانب سے منعقدہ ریاستی کانفرنس میںشرکت کرنے والے نوجوانوں کی کثیرتعداد کو قابلِ ستائش قراردیتے ہوئے کہاکہ جس قوم یا طبقہ کا نوجوان بیدار ہوتا ہے وہ قوم کبھی زوال پذیر نہیںہوسکتی۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ سوشیل میڈیا کو اپنا ہتھیار بنائے تاکہ آسانی کے ساتھ اپنی بات کو حکمران جماعت کے ذمہ داران تک پہنچایا جاسکے ۔ انہوں نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنے مسائل کو عام شہریوں تک پہنچانے کا بہترین ذریعہ بھی قراردیا اور کہاکہ آج کے تیز رفتار اور عصری دور کے ساتھ چلنا سمجھد ار قوم کی نشانی ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ نوجوان نسل کے ہاتھ میںقیادت کی باگ ڈور تھامنے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا بھی اس موقع پر مشورہ دیا او رکہاکہ نوجوانوں کی مثبت سوچ او رفکر ہی ملک کے سیاسی حالات میںانقلاب کا نقیب ثابت ہوسکتی ہے۔ صدر بام سیف مسٹر ومن مشرام نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی سطح پر ای وی مشین کے ذریعہ رائے دہی کے خلاف تحریک کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ای وی مشین کے ذریعہ انتخابات میںدوسوفیصد دھاندلیوں کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اس حساس مسئلہ پر دانشور طبقے کی خاموشی ملک کی سلامتی اور جمہوری اقدار کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی۔انہوں نے ملک کے موجودہ سیاسی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ
1950سے ہی اس ملک کے پسماندہ اور پچھڑوں کے ساتھ ناانصافیو ں کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہو ں نے 1950کے پہلے لوک سبھا انتخابات کا اس موقع پر حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اُس وقت کے کانگریس صدر پنڈت جواہر لال نہرو نے ملک کے پہلے لوک سبھا انتخابات میں3.5فیصد آبادی کاتناسب رکھنے والے برہمن طبقے کو ساٹھ فیصد نمائندگی دی تھی جس میں چالیس فیصد نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب تک ہم اپنی نوجوان نسل کو اس کے دشمن سے واقف نہیںکروائیں گے اُس وقت تک نوجوانوں کے اندر شعوربیداری ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مذہب اور ذات پات کے ادھار پر کسی بھی قوم یا طبقے کے ساتھ ناانصافی کی دستور ہند ہرگز اجازت نہیں دیتا باوجود اسکے دلت سے کرسچین ہوکر اپنا مذہب تبدیل کرنے والے دلتوں کو تحفظات سے محروم کرنے کاکام کیا جارہا ہے جو دستور ہند کے عین خلاف ہے۔ انہو ں نے کہاکہ دلتوں کے درمیان طبقہ واری جھگڑے لگاکر اپنی سیاسی روٹیاں سیکھنا اعلی ذات والے سیاسی قائدین کا قدیم کھیل ہے جس کو ناکام بنانے کے لئے ہمارے اندر اتحاد کی ضرورت ہے۔ دیگر نے بھی اس سمینار سے خطاب کے ذریعہ نوجوان نسل کو ای وی ایم مشین کے ذریعہ کی جارہی دھاندلیوں کے متعلق اگاہ کرنے کو ضروری قراردیا۔مسٹر کونڈیشوار آپا لنگایت گرو‘ مسٹر جئے ہند گوڑ صدر سردار سروائی پاپنا گوڑ سوسائٹی‘مسٹر پال دیو پریم سی ای ائو آردھنا ٹی وی اورمولانا حسین شھید نے بھی اس سمینار سے خطاب کیا۔