پرکال میونسپل کونسل کانگریس نے ٹی آر ایس سے چھین لی

ٹی آر ایس ارکان کی اپنے ہی چیرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد
ٹی آر ایس کونسلر کی تائید سے کامیابی کے بعد کانگریسی کارکنوں میں جوش و خروش کا ماحول
حیدرآباد ۔ 27 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : حکمراں ٹی آر ایس پارٹی ضلع ورنگل کو اپنا طاقتور اور مستحکم گڑھ تصور کرتی ہے ۔ جہاں ان کے 11 ارکان اسمبلی بشمول دو پارلیمانی ارکان شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے ورنگل ضلع ٹی آر ایس کا گڑھ مانا جاتا ہے ۔ تاہم ان دنوں یہاں کی سیاسی صورتحال اتھل پتھل کا شکار ہے ۔ جہاں دن بدن گروپ بندیوں اور اختلافات میں شدید اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ جن کا خمیازہ آج کے سی آر کو بھگتنا پڑا ۔ جیسا کہ آج ورنگل کے پرکال میونسپل کونسل میں تحریک عدم اعتماد کے دوران خود ٹی آر ایس ارکان نے اپنے ہی چیرمین کے خلاف ووٹنگ کرتے ہوئے کانگریس کو کامیاب بنایا ۔ یہاں کی مقامی رکن اسمبلی چلادھرما ریڈی کی جان توڑ کوششوں کے باوجود کونسل پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے ۔ واضح رہے کہ گذشتہ میونسپل انتخابات میں 20 ڈیویژن میں ٹی آر ایس پارٹی نے 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جب کہ کانگریس پارٹی نے 7 ، بی جے پی نے 3 اور ایک نشست پر آزاد امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ بعد ازاں ٹی آر ایس سے میونسپل صدر نشین کی حیثیت سے راجہ بھدریا کو صدر نشین اور وائس چیرمین کی حیثیت سے منتخب کیا تھا ۔ گذشتہ کئی دنوں سے چیرمین اور مقامی رکن اسمبلی کے درمیان ترقیاتی کاموں کو لے کر اختلافات منظر عام پر آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے رکن اسمبلی اور چیرمین کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئے ۔ اچانک بھدریا نے اپنے صدر نشین کے عہدے سے مستعفی ہو کر کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے اور اسی ماہ کی 5 تاریخ کو ضلع کلکٹر رورل ورنگل ہرین کو ایک یادداشت پیش کی اور کہا کہ پرکال میونسپل میں تحریک عدم اعتماد پیش کیا جائے جس پر کلکٹر نے جی او جاری کیا ۔اور 20 دن آج تحریک عدم اعتماد پیش کی جس میں ٹی آر ایس کے کونسلر نے بھدریا کے حق میں ووٹ ڈال کر انہیں کامیاب بنادیا ۔ خود ٹی آر ایس کونسلر کی حیثیت سے چیرمین کی حیثیت سے بھدریا کو اور وائس چیرمین کی حیثیت سے راما کرشنا کو منتخب کیا جس سے کانگریس میں جوش و خروش کا ماحول پیدا ہوگیا ۔۔