حکومت سے ہر گھر کو سربراہی آب کا وعدہ، عوام حکومت کے اعلان پر عمل کے منتظر
حیدرآباد ۔ 8 ڈسمبر (سیاست نیوز) عالمی سطح پر شہرت یافتہ شہر حیدرآباد کے بیشتر علاقے شہریوں کیلئے مختلف وجوہات کی بناء پر قابل توجہ ہیں لیکن اسی شہر میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جہاں پر ہفتہ میں ایک مرتبہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے پانی کی سربراہی یقینی بنائی جاتی ہے۔ پرانے شہر کے علاقہ بی بی کا چشمہ کا نام سنتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں پانی کا چشمہ موجود ہے اور اس علاقہ کے مکینوں کو پانی کی قلت کا سامنا نہیں ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پرانے شہر کے اس علاقہ میں آبی سربراہی کی حقیقت کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس علاقہ کے مکینوں کو ہفتہ میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے کاروبار و ملازمتوں سے چھٹی لے کر ایک ہفتہ کیلئے پانی جمع کرنا پڑتا ہے چونکہ اس علاقہ میں آبی سربراہی کے سلسلے میں کوئی نظام موجود نہیں ہے بلکہ کبھی پانچ دن میں ایک مرتبہ یا پھر کبھی سات دن کے بعد آبی سربراہی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں سے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر پتہ چلا ہیکہ وہ اس مسئلہ سے پوری طرح واقف نہیں ہیں جبکہ پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقہ فلک نما، وٹے پلی، بی بی کا چشمہ کے علاوہ اس کے آگے موجود بعض علاقوں کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ اس علاقہ کے مکینوں کی بڑی تعداد روزمرہ کی ملازمت کے علاوہ مزدوری پر ذرائع معاش کی تلاش میں نکلتی ہے لیکن جس دن محکمہ آبرسانی علاقہ کے مکینوں پر مہربان ہوتا ہے تو اس دن وہ صرف پانی جمع کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں کیونکہ خود مکینوں کو اس بات کاعلم نہیں ہیکہ دوبارہ محکمہ آبرسانی کی مہربانی ان پر کب ہوگی۔ مقامی عوام کے بموجب روزانہ یا ایک دن کے وقفہ سے آبی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے متعدد نمائندگیاں کی جاچکی ہیں لیکن محکمہ آبرسانی کی جانب سے ان نمائندگیوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور پھر ہر نمائندگی کی طرح آبی سربراہی کو باقاعدہ بنانے والے شہریوں کی استدعا بھی برفدان کی نذر کردی گئی۔ حکومت کی جانب سے آئندہ 5 برسوں کے دوران ہر گھر تک آبی سربراہی کو یقینی بنانے کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ ان اعلانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی بی کا چشمہ، وٹے پلی کے مکینوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس عظیم منصوبہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کا آغاز شہر حیدرآباد کے اس علاقہ سے کرے جہاں کے مکین برسہا برس سے پینے کے پانی کیلئے پریشان ہیں۔ علاقہ کے عوام کا کہنا ہیکہ حکومت کی جانب سے اگر احکام جاری ہوتے ہوں اور محکمہ آبرسانی کے عہدیدار اس سلسلہ میں سنجیدگی اختیار کرتے ہیں تو اس علاقہ میں موجود آبی سربراہی کے مسائل فوری طور پر حل کئے جاسکتے ہیں۔