پرانے شہر کی تنگ سڑکیں اور گاڑیوں کی غیر مجازپارکنگ سے عوام پریشان حال

علاقے کی ترقی کے حکومت کے دعوے کھوکھلے ،مقامی لیڈروں کی خاموشی معنیٰ خیز
حیدرآباد ۔21 ۔ اگست(سیاست نیوز ) Old City of Hyderabad حیدرآباد کا پرانا شہر ۔ جس کو آباد کرنے کا سہرا قطب شاہی دور کے بادشاہ محمد قلی قطب شاہ کے نام سے جاتا ہے۔محمد قلی قطب شاہ نے اللہ کے دربار میں دعا ء کی تھی کہ حیدرآباد کو سمندر کے مچھلیوں کی طرح آباد کردیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء کو قبول فرمایا اور آج چار سو سال سے زیادہ کا وقت گذر جانے کے بعد بھی یہاں کی آبادی میں مسلسل اضافہ درج کیاجارہاہے لیکن حیدرآباد اب دوحصوں میں منقسم ہوگیا ہے۔نیا شہر اور پرانا شہر، چونکہ پرانے شہر میں گنجان آبادی نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کردی ہے اس لئے جدید دور کے حکمرانوں نے نئے شہر کو ترقی دینے کے لئے کروڑہا روپے صرف کرتے ہوئے کئی بنیادی سہولتیں فراہم کی ہیں۔اس کے بہ نسبت پرانے شہر کو یکسر نظر انداز کردیا ۔ پرانے شہر میں جگہ جگہ مذہبی مقامات اور تاریخی عمارتیں موجود ہیں اس لئے یہاں پر ترقی کی رفتار میں کافی سُستی نظر آتی ہے۔یہاں کے بیشتر علاقو ں میں آمدورفت کے لئے موثر انتظامات نہیں ہیں ۔ اہم بنیادی سہولتوں کا فقدان پایا جاتا ہے صاف صفائی ، پینے کے پانی کی سربراہی موثرنہیں، برقی سربراہی برابر نہیں،مناسب سڑکیں ،سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھ اور پودے نہیں وغیرہ وغیرہ۔پرانے شہر کی ترقی میں سب سے اہم رکاوٹ خستہ حال سڑکیں اور تنگ راستے ہیں۔یہاں کی سڑکوں کا یہ حال ہے کہ تھوڑی سی بارش میں سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔جگہ جگہ سڑکوں کے کنارے کچرے کے انبار پڑے ہوتے ہیں، سڑکوںکے کنارے فٹ پاتھ پر تجارتی مراکز قائم ہوگئے ہیں ۔ کئی مقامات پر لوگ اپنے کاروبار سڑکوں پر چلارہے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دوکاندار اپنی گاڑیاں سڑک پر اسطرح رکھتے ہیں کہ عوام کو راستے سے گذرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اس کے علاوہ خریدار بھی دوکان کے سامنے گاڑیا ں پارک کرتے ہیں جس کی وجہ سے سڑک پر ٹرافک جام ہو جاتی ہے۔ پرانے شہر میں کئی مقامات پر تنگ سڑکیں ہیںجس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ہمت پورہ سے شمع ٹاکیز ، جہاں نما کی سڑک انتہائی تنگ ہوکر رہ گئی ہے ۔ یہ سڑک ایک اہم سڑک ہے ۔ یہاں کوئی متبادل سڑک موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں پر گھنٹوں ٹرافک جام رہتی ہے اور گاڑیوں کی آمدورفت کو بحال کرنے کے لئے کوئی ٹرافک عہدیدار بھی موجود نہیں ہوتا ۔ اسی طرح نواب صاحب کنٹہ تا تیگل کنٹہ بھی تنگ سڑک ہے اور اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں ۔ ان سڑکوں کے کناروں پر موجود، دوکانداروں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کرلیا ہے جس کی وجہ سے پیدل چلنے والے ـضعیف حضرات ، خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔بی بی بازار تا ریاست نگر۔اعتبار چوک تاسلطان شاہی ۔مصری گنج تا کالاپتھر۔ شاہ علی بنڈہ تا انجن باؤلی اور حسینی علم تا چندولال بارہ دری کی سڑکوں کا بھی یہی حال ہے۔ان سڑکوں پر روز کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آتا رہتا ہے اور کسی نہ کسی کی ہڈیاں ٹوٹتی ہی رہتی ہیں۔اس کے علاوہ روز جھگڑوں کا سڑکوں پر نظارہ یہاں کے لوگوں کا جیسے ٹائم پاس بن گیا ہے۔ گذشتہ حکومتوں نے موجودہ حکومت کی طرح ہی پرانے شہر کی ترقی کے کئی وعدے کئے تھے اور جب وعدوں کو بروے کار لانا تھا تب گنجان آبادی اور مذہبی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے ترقی کے منصوبے کو دوسری جانب منتقل کردیا گیا لیکن پرانے شہر کے عوام کو موجودہ حکومت سے کافی امیدیں وابستہ ہیں اور ٹی آر ایس حکومت نے پرانے شہر کو ہمہ جہت ترقی کی طرف گامزن کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ ایسے میں پرانے شہر کے لوگوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ یہاں کی سڑکوں کو چوڑی کرنے کے لئے ماسٹر پلان تیار کریں اور ایسا پلان تیار کریں جس کے ذریعہ کسی بھی شہری کو تکلیف اُٹھانی نہ پڑے۔اس ضمن میں پرانے شہر کے لوگوں نے مقامی لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ سڑکوں کی چوڑائی کا جو کام پہلے ہونا چاہیئے تھا وہ آج تک نہیں ہوا ہے ۔ اس بار پرانے شہر کی نمائندگی کرتے ہوئے سڑکوں کو چوڑا کرانے کی کوشش کریں تاکہ یہاں کے عوام کو ہورہی مشکلات سے نجات حاصل ہوسکے۔