پرانے شہر کی تاریخی عمارات سے حکومت کی غفلت

قدیم عمارتوں کا وجود آخر کیوں مٹ رہا ہے ؟
حیدرآباد ۔ 9 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : حیدرآباد شہر اپنی تاریخی عمارتو کے لیے نہ صرف ہندوستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی بے حد مشہور ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ گزرنے والے ایام نے بعض تاریخی عمارتوں کو تقریبا کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ فتح دروازہ ، شاہ گنج کی دیوڑھی خورشید جاہ اپنے قیمتی قالینوں اور فانوسوں کی وجہ سے جانی جاتی تھی ۔ جس کا طرز تعمیر یورپی تھا لیکن آج یہ اپنی خستہ حالی کی کہانی سناتی نظر آتی ہے ۔ ملک پیٹ کا محبوب منشن جو کسی زمانے میں نظام حیدرآباد کی رہائش گاہ تھی ۔ آج کسمپرسی کی منہ بولتی تصویر بنا ہوا ہے ۔ اس کا طرز تعمیر ہندوستانی اور یورپی نوعیت کا ہے ۔ عثمان گنج سے منتقل کی گئی ایک اوپن مارکیٹ اب یہاں اپنے جلوے بکھیر رہی ہے لیکن جو یہاں کے بزرگ حضرات ہیں وہ اس منشن کی عظمت رفتہ کو آج بھی یاد کرتے ہیں ۔ اسی طرح دارالشفاء میں سوپر اسپیشالیٹی کیر سنٹر جو کسی زمانے میں کافی مصروف رہا کرتا تھا اور یہاں محکمہ ریلویز نے ایک بکنگ کاونٹر بھی کھولا تھا لیکن آج وہاں نہ کیر سنٹر ہے اور نہ ہی بکنگ آفس ۔ عمارت کو اگر باہر سے دیکھا جائے تو دیکھنے والے کے دل پر رقت طاری ہوجاتی ہے ۔ فتح دروازہ میں ہی شاہ گنج اردو شریف اسکول کی عمارت ہے جہاں کسی زمانے میں 30 کلاس رومس ہوا کرتے تھے لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ عالیشان شاہی عمارتوں کے علاوہ زمانے کی گردش نے اسکول کی عمارت کو بھی نہیں بخشا ۔ اسکولی عمارت کھنڈر بن چکی ہے اور موجودہ دور میں صرف دو کرائے کے کمروں میں اسکول چلایا جارہا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گذشتہ میں جو بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں ، انہوں نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ تاریخی عمارتیں ہمارا ورثہ ہیں اور ان کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا لیکن وہ وعدے ہی کیا جو وفا ہوجائیں ۔ تاریخی عمارتوں کی داغ دوزی تو دور ، ان کی حالت مزید خستہ ہوتی چلی گئی ۔ نئی ریاست تلنگانہ کے پہلے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ حیدرآباد کی تاریخی عمارتوں کی عظمت رفتہ ضرور بحال کریں گے کیوں کہ اپنی ہر تقریر کے دوران موصوف نظام حیدرآباد کی تعریف و توصیف ہی کرتے نظر آتے ہیں ۔ یوم آزادی کے جشن کے لیے بھی انہوں نے قلعہ گولکنڈہ کا انتخاب کیا تھا ۔ توقع ہے کہ ہمارے نئے وزیر اعلیٰ ان تاریخی لیکن خستہ حال عمارتوں کے محافظ ثابت ہوں گے ۔۔