پرانے شہر میں میٹرو ریل کیلئے متبادل راستہ اختیار کرنے مجلس کی تجویز

حیدرآباد 9 ڈسمبر (سیاست نیوز) کُل جماعتی اجلاس میں مجلس نے حیدرآباد میٹرو ریل کے بعض راستوں کو تبدیل کرنے، غریب عوام کو 125 گز اراضی مفت فراہم کرنے اور حسین ساگر کی آلودگی کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ مورتیوں کے وسرجن کے لئے ونائک ساگر کی تعمیر کی تجویز پیش کی۔ اجلاس کے اختتام پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے قائد مجلس مقننہ اکبرالدین اویسی نے بتایا کہ حسین ساگر کے تحت 3 ہزار ایکر اراضی ہے لیکن آج یہاں ایک ہزار ایکر اراضی بھی نہیں ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہاں گنیش مورتیوں کا وسرجن 1980 ء سے شروع ہوا لیکن اب دیگر مقامات سے بھی حسین ساگر میں ہی وسرجن کیا جارہا ہے۔ اِسے غیر مرکوز کیا جانا چاہئے۔ حیدرآباد میٹرو ریل کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ وہ ابتداء ہی سے پرانے شہر میٹرو ریل الائنمنٹ کی مخالفت کررہے ہیں۔ اگر حکومت کو پرانے شہر کی ترقی سے دلچسپی ہے تو وہ حیدرآباد میٹرو ریل خدمات سالار جنگ میوزیم، ہائیکورٹ، پیٹلہ برج، مسلم جنگ پُل، نہرو زوالوجیکل پارک سے ہوتے ہوئے کالاپتھر اور فلک نما تک فراہم کرے۔ موجودہ الائنمنٹ کے نتیجہ میں تقریباً 40 مساجد، 10 منادر اور کئی اہم عاشور خانوں کے علاوہ 4 ہیرٹیج عمارتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔