پرانے شہر میں سیاسی ماحول آئندہ مہینہ تک گرما جائے گا

شہزادہ بمقابلہ شہزادی
پرانے شہر میں سیاسی ماحول آئندہ مہینہ تک گرما جائے گا
حیدرآباد ۔ 8 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں اور سیاسی میدان میں امیدواروں کا انتخاب کانٹے کی ٹکر کا ہونے جارہا ہے اور پرانے شہر میں شہزادے کا مقابلہ کرنے شہزادی کو میدان میں اتارا جارہا ہے اور پرانے شہر کے سیاسی شہزادے سے مقابلہ کے لیے بی جے پی نے عادل آباد کی شہزادی کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سیاسی دنگل میں شہزادی کی آمد سے نئی سیاسی بحث چھڑ گئی ہے چونکہ خواتین و اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنے والی اس شہزادی نے میدان میں قدم رکھنے سے قبل ہی اپنا احساس دلانا شروع کردیا ہے ۔ ویسے تو کہا جاتا ہے کہ شہزادے کا بھی شہزادی کے آبائی مقام سے گہرا تعلق ہے ۔ اور شہزادی کا ضلع شہزادے کے حق میں ایک تاریخ پہلے ہی رقم کرچکا ہے ۔ چاہے ضلع کے دورے ہوں یا پھر ضلع کے جیل کی سزا اور یا پھر ضلع کا سفر ۔ شہزادے کے لیے سفر بھی مشکلات بھرا ہی رہا ہے اور اب سیاسی میدان میں اسی ضلع کی شہزادی شہر تک شہزادے سے مقابلہ کے لیے پہونچ گئی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی طلبہ تنظیم کی سرگرم کارکن اور قومی سطح کی قائد سید شہزادی نے بی جے پی ہائی کمان سے درخواست کی اور پرانے شہر کے چندرائن گٹہ علاقے سے ٹکٹ دینے کامطالبہ ہے ۔ انتخابی میدان میں قدم جماتے ہی شہزادی نے اپنے بیانات سے شہزادے کے ہوش اڑا دئیے ۔ سید شہزادی نے مباحثہ کا چیالنج کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے والوں نے اب تک مسلمانوں کا صرف استحصال کیا ہے ۔ سید شہزادی نے اکبر الدین اویسی سے سوال کیا کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کی باتیں کرنے والوں نے اپنے اسکولس میں کتنے غریب بچوں کو مفت تعلیم دی اور ملت کی دہائی دینے والوں نے کتنے غریب مسلمانوں کا اپنے دواخانوں میں علاج مفت کروایا ۔ شہزادی نے اکبر اویسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کے نام پر مجلس پارٹی اپنی ذاتی املاک بنانے میں مصروف ہے اور مسلمانوں کی سودے بازی کررہے ہیں ۔ بی جے پی کی اس خاتون امیدوار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی خواہش کے اعلان کے بعد سے انہیںکافی ستائش حاصل ہوئی ہے اور حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کی کئی خواتین ان سے رابطہ میں آچکی ہے اور حلقہ کے علاوہ پرانے شہر کے بیشتر علاقوں سے ان کی ہمت افزائی کی جارہی ہے ۔ اور خواہش کی جارہی ہے کہ وہ مقابلہ کریں ۔ انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ اس حلقہ سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک تاریخ رقم کریں گی اور کامیابی حاصل کریں گی ۔ انہوں نے بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن سے خواہش کی ہے کہ وہ چندرائن گٹہ حلقہ کیلئے ان کے نام کا اعلان کریں ۔ یاد رہے کہ انتخابی میدان میں مسلمانوں کی نمائندگی کو ختم کرنے اور مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہ دینے والی بی جے پی نے مسلمانوں کو اہمیت دینا شروع کردیا ہے۔ لیکن اس مقام پر بھی بی جے پی نے اپنی اصلیت ظاہر کرتے ہوئے مسلم خواتین کو میدان سیاست میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے جو اس کی پالیسی ذہنیت اور وجود کو ظاہر کرتا ہے ۔۔