پرانے شہر حیدرآباد کے سودخوروں پر پولیس کا شکنجہ

بڑے پیمانے پر دھاوے،80 غیر قانونی فینانسر حراست میں،تلاشی میں مداخلت پر ظفر پہلوان گرفتار
٭400 غیر قانونی فینانسروں کی نشاندہی
٭پولیس کی جانب سے عنقریب مزید گرفتاریاں
حیدرآباد ۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) چھتہ بازار میں خانگی فینانسر کے ہاتھوں پرنٹنگ پریس کے مالک محمد جاوید کا بہیمانہ قتل کے تناظر میں ساوتھ زون پولیس نے سودخوروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 17 پولیس اسٹیشنس حدود میں بیک وقت دھاوے کرکے 80 فینانسروں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے غیرلائسنس یافتہ فینانسرس کے خلاف 18 مقدمات درج کئے ہیں۔ سودخوروں کے خلاف خصوصی مہم کی کارروائی کے دوران ساوتھ زون پولیس اور ٹاسک فورس عملہ حمزہ بن عمر عرف ظفرپہلوان کے مکان یاقوت پورہ پہنچ کر تلاشی لینے کی کوشش کی جہاں پر ظفرپہلوان نے مبینہ طور پر پولیس کو کارروائی کرنے سے روک دیا جس کے سبب وہاں پر کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے ظفرپہلوان کو دفعہ 353 (سرکاری ملازم کو فرائض انجام دینے سے روکنا) کے تحت گرفتار کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو ظفر پہلوان اور ان کے دیگر رشتہ داروں کی جانب سے عوام کو سود کیلئے ہراساں کرنے کی شکایتیں موصول ہوئی تھیں جس کے نتیجہ میں آج کارروائی کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ ظفرپہلوان کے دو لڑکے علی اور سعید نے علاقہ حسینی علم میں ایک موبائیل فون شاپ مالک جو ایڈوکیٹ سبحانی کے فرزند ہیں، کو مبینہ طور پر زدوکوب کیا تھا جس کے نتیجہ میں ان دونوں کے خلاف دفعہ 324 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے گرفتار کرنے کیلئے آج ان کے مکان پہنچی جہاں پر پولیس کو اندر داخل ہونے سے روک دیا گیااور پولیس عملہ پہلوان کے مکان کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوا ۔ پولیس نے ظفرپہلوان کے بھانجے محمد بن یوسف عرف بڑا محمد کے مکان پہنچ کر وہاں کی تلاشی لی۔ حال ہی میں بڑا محمد کے خلاف جبراً وصولی اور دھوکہ دہی کا ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اسے گرفتار کرنے کیلئے پولیس اس کے مکان پہنچی تھی لیکن وہ پولیس کی کارروائی کی اطلاع ملنے پر فرار ہوگیا۔ پولیس کی ایک اور ٹیم نے ظفرپہلوان کے بھتیجے چھوٹا محمد کے مکان پر بھی دھاوا کیا اور وہاں سے اراضی کی دستاویزات اور چیکس بھی برآمد کئے جو قرض کے عوض حاصل کئے گئے تھے۔واضح رہے کہ سابق دو مختلف قتل مقدمات میں ظفرپہلوان کے مکان پر پولیس نے دھاوا کیا تھا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ساوتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے چھتہ بازار میں دن دھاڑے پیش آئے پرنٹنگ پریس کے مالک محمد جاوید کے قتل کا سخت نوٹ لیتے ہوئے خانگی فینانسروں کے خلاف خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی، جس کے نتیجہ میں آج ساوتھ زون کے 17 پولیس اسٹیشنس کے انسپکٹران نے اچانک خانگی فینانسرس کے مکانات اور شاپس پر دھاوے کرتے ہوئے 80 فینانسرس کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے اس بیک وقت دھاوؤں کی اطلاع پر بعض خانگی فینانسرس اپنے مکانات سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے آج کارروائی کے دوران مادنا پیٹ علاقہ سے ٹی راچپا، آر بالا سبرامنین، این یادیا، اور محمد امجد حسین، کالا پتھر علاقہ سے سید مومن پاشاہ، میر چوک سے اے سرینواس، مغلپورہ سے ایم گویند، دبیرپورہ سے اے روی کمار، چندرائن گٹہ سے سرینواس، سنتوش نگر سے اے اشوک کمار اور کے سائی دی ریڈی ، بہادر پورہ سے محمد کریم الدین جو مبینہ خانگی فینانسرس بتائے جاتے ہیں کو گرفتار کرلیا اور ان کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعہ 384 (جبراً وصولی) اور تلنگانہ منی لینڈنگ ایکٹ کے دفعہ 3 اور 5 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔ حراست میں لئے گئے تمام 80 غیرقانونی فینانسرس کو پرانی حویلی میں واقع کمشنر پولیس حیدرآباد کے دفتر منتقل کیا جہاں پر ڈی سی پی ساوتھ زون نے انہیں اپنی حرکتوں سے باز آنے کا انتباہ دیا۔ فینانسرس کے خلاف آج کی گئی کارروائی سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی سی پی ساوتھ زون مسٹر وی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ پرانے شہر میں 400 غیرقانونی فینانسرس کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے تحت آج ان کے خلاف اچانک کارروائی کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں فینانسرس کے خلاف خواتین سے بدسلوکی، ہراسانی اور دیگر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی شکایت موصول ہوئی ہیں اور پولیس اس پر سخت کارروائی کرتے ہوئے فینانسرس کو گرفتار کیا ہے۔ مسٹر ستیہ نارائنا نے کہا کہ غیرلائسنس یافتہ فینانسرس کے خلاف اس وقت تک خصوصی مہم جاری رہے گی جب تک اس غیرقانونی کاروبار کا خاتمہ نہ ہوجائے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرلائسنس یافتہ فینانسرس غیرقانونی طور پر اپنا کاروبار بڑے پیمانے پر چلا رہے ہیں اور غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ سود پر قرض دے کر 30 تا 40 فیصد شرح سود وصول کیا جارہا ہے جو غریب عوام کیلئے پریشانی کا سبب ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام خانگی فینانسرس کی ہراسانی کی شکایت بلاخوف پولیس کو دیں ۔عوام پولیس کنٹرول روم نمبر 100 پر یا اپنے متعلقہ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤز آفیسر سے بھی شکایت درج کرواسکتے ہیں۔ مسٹر ستیہ نارائنا نے پرانے شہر کے خانگی فینانسرس کو یہ انتباہ دیا کہ وہ اپنا غیرقانونی کاروبار ترک کردیں اور عوام کو ہراساں کرنا چھوڑ دیں ورنہ ان کے خلاف سخت دفعات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ڈی سی پی نے مزید بتایا کہ پرانے شہر کے روڈی شیٹر حمزہ بن عمر عرف ظفر پہلوان، چھوٹا محمد، سالم پہلوان اور دیگر تین روڈی شیٹرس کے خلاف پی ڈی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کیلئے تیاری کی جاچکی ہے اور اس سلسلہ میں کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر مہیندر ریڈی کی اجازت کا انتظار کررہی ہے۔ دونوں شہروں میں پی ڈی ایکٹ کے تحت روڈی شیٹرس کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ عوام میں احساس تحفظ و سلامتی کو فروغ دیا جاسکے۔ کل چھتہ بازار مارکٹ میں پرنٹنگ پریس مالک محمد جاوید کے قتل سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مہلوک کی جانب سے قاتل حسن جابری کی دھمکی کی زبانی شکایت وہاں کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سے کی گئی تھی اور اس سلسلہ میں پولیس کی لاپرواہی کے الزام کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محض 50 ہزار روپئے کے قرض کیلئے دن دہاڑے قتل کئے جانے کا واقعہ بے حد تشویش کا باعث ہے اور غیرقانونی سرگرمیوں کو پرانے شہر میں سختی سے کچل دیا جائے گا۔