پرانے شہر حیدرآباد کو استنبول کی طرز پر ترقی دینے کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

ترقی کے بلند بانگ دعوے ، عمل ندارد ، پرانا شہر ترقی سے قاصر ، علحدہ تلنگانہ کے بعد سارے کام التواء کا شکار
حیدرآباد۔4مارچ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کا منصوبہ کہاں تک پہنچا؟ حکومت کی جانب سے پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے سلسلہ میں کوئی کمیٹی بنائی گئی یا حکومت نے اس اعلان کو محض انتخابات کے پیش نظر رکھتے ہوئے برق رفتاری سے مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا؟ پرانے شہر کی ترقی کیلئے اور پرانے شہر کے سلم علاقوں کی لئے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن حکومت کی جانب سے ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو نظر انداز کئے جانے کے سبب اتھاریٹی اب تک پرانے شہر میں کام انجام دینے والے ٹھیکہ داروں کے کروڑہا روپئے باقی ہے جس کی وجہ سے اب اتھاریٹی کی جانب سے کوئی نئے ترقیاتی کام پرانے شہر میں انجام نہیں دئیے جا رہے ہیں بلکہ جو بھی ترقیاتی کام انجام دیئے جانے ہیں وہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ہی انجام دیئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے پرانے شہر کی ترقی کا کوئی خصوصی نظم موجود نہیں رہا اور ٹھیکہ داروں کو درپیش مسائل کے سبب وہ جی ایچ ایم سی کے قوانین کے مطابق کام انجام دینے سے قاصر ہیں ۔حکومت نے موسی ندی کو خوبصورت بنانے کیلئے موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی تشکیل عمل میں لائی گئی تاکہ کاموں کو منقسم کیا جاسکے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کام انجام دینے کے لئے کسی بھی کارپوریشن یا شعبہ میں تال میل پیدا کرنے میں حکومت قاصر ہے جس کے سبب پرانے شہر کی مجموعی ترقی ممکن نہیں ہو پا رہی ہے ۔حکومت نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دی جائے گی اور پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر میں موجود سلم علاقوں کو امریکی شہر ڈلاس کے طرز پر ترقی دینے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن عہدیداروں سے دریافت کرنے پر عہدیدار یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات پر عمل آوری کے لئے بجٹ اور منصوبہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن صرف منصوبہ سازی اور اعلانات کے ذریعہ کاموں کی تکمیل ممکن نہیں ہے کیونکہ کاموں کی تکمیل کیلئے سنجیدہ اقدامات درکار ہوتے ہیں ۔حکومت نے جرمنی کے ماہرین کے ہمراہ منعقدہ ایک اجلاس میں معظم جاہی مارکٹ تا چارمینار ٹرام شروع کرنے کے منصوبہ کا بھی اعلان کیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ اس منصوبہ کے ذریعہ سیاحوں کو چارمینار تک پہنچنے میں آسانی کے علاوہ شہریوں کو ٹریفک سے بچانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اور یہ منصوبہ بھی استنبول اور لندن میں چلائی جانے والی ٹرام ٹرین کے منصوبہ کے مطابق ہوگا ۔تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت کی جانب سے کئے گئے اعلانات کا مجموعی اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو پرانے شہر کی ترقی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اعلانات میں تاریخی چارمینار کے اطراف پیدل راہرو پراجکٹ پر کاموں کی انجام دہی کے علاوہ کوئی اور منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ماہرین شہری ترقیات کا کہناہے کہ پرانے شہر میں ترقیاتی کاموں کو یقینی بنانے کیلئے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو کارکرد اور بااختیار بنانے کی ضرورت ہے اور اتھاریٹی کے ساتھ جی ایچ ایم سی اور موسی ریورفرنٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے عہدیداروں کے علاوہ دیگر متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں میں تال میل پیدا کرنے کے اقدامات کیا جانا ناگزیر ہے تاکہ پرانے شہر کے متعلق ترقیاتی منصوبوں کو قطعیت دیتے ہوئے عملی جامہ پہنایا جاسکے۔