حیدرآباد ۔ 25 ۔ نومبر : ( ابوایمل ) : آج اگر ہم اس بات کا جائزہ لیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ کون سی بیماری نے لوگوں کو متاثر کیا ہے تو جواب یقینی طور پر ہوگا ذیابیطس ۔ ایک زمانہ تھا کہ اس کے مریض خال خال ہی نظر آتے تھے ۔ لیکن جیسے جیسے انسان کی مصروفیات میں اضافہ ہوتا گیا ، انسانوں میں اس بیماری نے بھی اپنے ہاتھ پاؤں نکالنے شروع کردئیے اور آج اگر ہم صرف اپنے شہر یعنی حیدرآباد کا جائزہ لیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہاں ذیابیطس سے متاثرہ افراد کا تناسب 16.6 فیصد ہے جو ہندوستان میں کسی بھی شہر میں پائے جانے والے تناسب سے سب سے زیادہ ہے ۔ دوسرے نمبر پر چینائی ہے جہاں اس کا تناسب 13.5 فیصد ہے ۔ تیسرے نمبر پر دہلی اور چوتھے نمبر پر ممبئی ہے جہاں ذیابیطس سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ صبح کی چہل قدمی انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور چہل قدمی کا شوق پہلے پہل مالدار خاندانوں میں عام تھا جو اپنی صحت سے متعلق بے حد فکر مند رہا کرتے تھے ۔ نئے شہر کے پاش علاقوں جیسے حسین ساگر ، اندرا پارک ، باغ عامہ ، نیکلس روڈ ، چیران پیالیس پارک اور جوبلی ہلز وغیرہ ایسے علاقے ہیں جہاں مالدار گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد صبح کے اوقات میں چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں ۔ حیدرآباد کا پرانا شہر بھی بہرحال انسانوں کی ہی بستی ہے لیکن وہاں اس نوعیت کی کوئی سہولیات پہلے پہل موجود نہیں تھیں تاہم ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے اثر کو دیکھتے ہوئے پرانے شہر میں بھی ہر کوئی اپنی صحت کے لیے فکر مند نظر آرہا ہے ۔ ڈاکٹر کا بھی یہی مشورہ ہوتا ہے کہ ہر کوئی 24 گھنٹوں میں سے کچھ وقت اپنے لیے بھی مختص کرے اور کم از کم 45 منٹوں تک چہل قدمی کرے یا پھر 30 منٹ کی ورزش بھی لازم قرار دی گئی ہے ۔ آج ذیابیطس ( شوگر ) اور بی پی عام بیماریاں بن چکی ہیں اور لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی کو ڈاکٹروں کے حوالے کررہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں پرانے شہر میں بھی اب صحت سے متعلق بیداری نظر آرہی ہے جہاں 200 سالہ پرانی عیدگاہ میر عالم کا علاقہ جس کا صرف چبوترہ ہی 3 ایکڑ پر محیط ہے ۔ وہاں روزانہ بعد نماز فجر سینکڑوں مرد و خواتین چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں ۔ پرانے شہر کی روایت رہی ہے کہ یہاں نہ نوجوانوں کے سونے کا کوئی وقت مقرر تھا اور نہ جاگنے کا ۔ بہر حال انٹرنیٹ پر NGO’s کی ایک رپورٹ کے مطابق حیدرآباد شہر میں شوگر کے مریضوں کا تناسب 16.6 فیصد ہے اور شاید اسی چونکا دینے والی رپورٹ نے نوجوان مرد و خواتین کو بھی ہلکی پھلکی ورزش اور چہل قدمی کی جانب راغب کیا ہے ۔ تعلیم کی کمی کی وجہ سے بھی اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا تھا ۔ لیکن اب ایسی بات نہیں ہے ۔ آج جب خصوصی نمائندہ نے فجر کے بعد عیدگاہ میر عالم پہنچ کر یہ منظر بہ چشم خود دیکھا تو حیرانی کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی کہ اب 20 سال سے لے کر 80 سال تک کے لوگ اپنی صحت سے متعلق فکر مند ہوگئے اور کیوں نہ ہوں ۔ جب سہولیات میسر ہیں تو ان سے استفادہ کیا جانا چاہئے ۔ ہم نے ایک نوجوان آصف حسین سے بات کی تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر نے ان کو 45 منٹ کی چہل قدمی کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں جن کا علاج چل رہا ہے ۔ ڈاکٹر نے چکنی غذا کا استعمال کرنے سے بھی منع کیا ہے ۔ آصف حسین نے کہا کہ وہ گذشتہ تین مہینوں سے چہل قدمی کررہے ہیں اور الحمدﷲ اپنے آپ کو فٹ محسوس کررہے ہیں ۔ اسی طرح ایک اور صاحب خواجہ بھائی نے بتایا کہ ان کا وزن 90 کیلو تھا لیکن اب وہ چہل قدمی کرنے کے لیے پابندی سے عیدگاہ آتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعد نماز فجر ان کے محلے کالے پتھر سے بھی تقریبا 40 افراد اپنی موٹر سائیکلوں پر عیدگاہ کا رخ کرتے ہیں اور بعد ازاں چہل قدمی میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ قدیم عیدگاہ کے علاوہ زو پارک سے متصل چمن میں بھی چہل قدمی کرنے والوں کا ہجوم نظر آتا ہے ۔ خواجہ بھائی نے بتایا کہ انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا وزن 20 کیلو کم ہوگیا ہے ۔ ڈاکٹر چکنائی والی غذاء استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں ۔ قارئین یہ وہ حقائق ہیں جنہوں نے یقینی طور پر نوجوان طبقہ کے علاوہ عمر رسیدہ افراد کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں چونکہ دنیا میں ہر کوئی صحت مند رہنا چاہتا ہے ۔ حیدرآباد کے باغ عامہ یعنی پبلک گارڈن میں تو چہل قدمی کرنے والوں کی باقاعدہ ایک اسوسی ایشن ہے جو پبلک گارڈن واکرس اسوسی ایشن سے موسوم ہے ۔ جن کے اجلاس بھی وقتا فوقتا منعقد ہوتے رہتے ہیں جنہیں اخبارات میں بھی شائع کیا جاتا ہے ۔ بہر حال بات صرف ذیابیطس کی ہی نہیں بلکہ کسی بھی بیماری کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے ۔ اگر ہر کام بروقت انجام دیا جائے تو بیمار پڑنے کی نوبت ہی نہ آئے گی ۔ ایک اور وجہ ہے پر سکون نیند جو صرف اچھی ورزش کی مرہون منت ہوتی ہے جہاں وہ جسمانی ہو یا دماغی ۔ اگر ہم صحت کے اصولوں پر کاربند رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بیمار پڑ جائیں ۔ آج جدید ٹکنالوجی کا زمانہ ہے لیکن چہل قدمی ایک ایسی قدیم روایت ہے جس پر عمل کرتے ہوئے ہم ذیابیطس تو کیا معمولی سردی اور زکام میں بھی مبتلا نہیں ہوسکتے ۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ شہر کا ہر نوجوان نماز فجر کی پابندی کریں اور بعد ازاں کسی قریبی پارک کا رخ کرتے ہوئے چہل قدمی کریں اور اس کے بعد گھر آکر مناسب کر ناشتہ کریں کیوں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے ۔۔