پرانا شہر میں میٹرو ریل کی روٹ تبدیل نہ کرنے پر زور

دارالشفاء تا سلطان شاہی مالکین جائیداد تعاون کے لیے تیار ، مقامی افراد کی جناب زاہد علی خاں سے نمائندگی
حیدرآباد ۔ 2 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : دارالشفاء ، میر عالم منڈی ، کوٹلہ عالیجاہ ، بی بی بازار اور سلطان شاہی کے عوام چاہتے ہیں کہ میٹرو ریل دارالشفاء تا سلطان شاہی بھی گذرے تاکہ اس سے عوام کو نہ صرف حمل و نقل کی سہولتیں فراہم ہوں بلکہ میٹرو ریل کے باعث ہونے والی ترقی کے ثمرات سے بھی وہ مستفید ہوسکیں ۔ اس سلسلہ میں ان علاقوں کے رہنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی جو دارالشفاء تا سلطان شاہی مختلف جائیدادوں کے مالکین ہیں ۔ عوام کے اس نمائندہ وفد نے کانگریس ، ٹی آرایس اور بی جے پی قائدین بشمول بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر حنیف علی اور ٹی آر ایس قائد راشد شریف اور جناب محمد احمد شریف کی قیادت میں ایڈیٹر سیاست کو بتایا کہ وہ اپنی جائیدادیں میٹرو ریل پراجکٹ کے لیے دینے تیار ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ موجودہ منصوبہ کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرے ۔ اس لیے کہ میٹرو ریل پراجکٹ سے پرانا شہر میں معاشی انقلاب برپا ہوسکتا ہے جس کا مثبت اثر عوام کی معیشت پڑ پڑے گا ۔ اس وفد نے جناب زاہد علی خاں کو یہ بھی بتایا کہ وہ اس ضمن میں جناب ابراہیم بن عبداللہ مسقطی سے بھی ملاقات کرچکے ہیں ۔ ایڈیٹر سیاست نے پرانا شہر کے اس نمائندہ وفد کے خیالات کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بے شک میٹرو ریل پراجکٹ میں پرانا شہر کا بھی حصہ ہے ۔ نئے شہر والوں کی طرح پرانا شہر میں رہنے والوں کو بھی ترقی و خوشحالی کے مواقع فراہم کئے جانے چاہئے ۔ میٹرو ریل کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عوام خود اس پراجکٹ کے لیے اپنی جائیدادوں کا کچھ حصہ دینے کے لیے تیار ہیں اور شائد اس پراجکٹ کے دوران یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عوام نے اپنی جانب سے قاعدہ کے مطابق جائیدادوں کا کچھ حصہ دینے کا پیشکش کیا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے مزید کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ 72.2 کیلومیٹر کا احاطہ کرتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس پراجکٹ کے تحت پرانا شہر میں صرف 18.2 کیلو میٹر کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ اس طرح 52.2 کیلو میٹر ریلوے نٹ ورک نئے شہر میں پھیلایا جارہا ہے جب کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پرانا شہر کے عوام بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں وہ بھی سہولتیں اور مراعات حاصل کرنے کے خواہاں ہیں لیکن ان حالات میں اس پراجکٹ کے ذریعہ پرانا شہر کا زیادہ سے زیادہ احاطہ کیا جانا چاہئے تھا ۔ جناب زاہد علی خاں کے مطابق موجودہ منصوبہ کے تحت میٹرو ریل پراجکٹ کی راہداری II میں جوبلی بس اسٹیشن سکندرآباد تا فلک نما لائن شامل ہے جو دارالشفاء ، میر عالم منڈی ، اعتبار چوک ، چارمینار ، شاہ علی بنڈہ ، شمشیر گنج ، مغل پورہ ، جنگم میٹ اور دیگر علاقوں سے ہو کر گذرے گی ۔ تاہم دارالشفاء اور سلطان شاہی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ چند عناصر کی ایماء پر اس روٹ میں تبدیلی کی جانے والی ہے جس سے اس پراجکٹ میں 3.2 کیلو میٹر کا اضافہ ہوگا اور اس پر 800 تا 1000 کروڑ روپئے کے زائد مصارف آئیں گے ۔ آپ کو بتادیں کہ ایل اینڈ ٹی میٹرو ریل حیدرآباد 72 کیلو میٹر طویل میٹرو ریل پراجکٹ پر تیزی سے کام کررہا ہے ۔ اس پراجکٹ میں تین راہداریاں ، 16 اسٹیشن بھی شامل ہیں ۔ راہداری II سکندرآباد سے ہوتے ہوئے مہاتما گاندھی بس اسٹیشن تا فلک نما 15 کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے تاہم پرانا شہر میں روٹ کی تبدیلی سے 3.2 کیلو میٹر کا فرق آئے گا ۔ ویسے بھی حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ میٹرو ریل شعبہ میں دنیا کا سب سے بڑا سرکاری و خانگی شراکت داری پراجکٹ ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے وفد کو اپنی جانب سے ہر ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔ ایڈیٹر سیاست سے ملاقات کرنے والے وفد میں محمد حیدر ، ایم اے قدیر ، حیدر علی حامد شریف ، ایم اے صدیق ، محمد اعظم ، خواجہ عزیز اللہ ، سلطان بن علی ، سالم بن محمد ، منیف بن محمد ، محمد فرحان ، فاروق حسین ، ایم اے سلیم ، محمد غوث ، محمد حسین ، انور بھائی ، محمد محسن ، رشاد فاروق ، ڈی وکاس ، گوپیشور ، بی کمار ، کرشنا ، عبدالروف اور دیگر شامل تھے ۔۔