پرانا شہر منی پاکستان، کریم نگر دہشت گردوں کی پناہ گاہ

حیدرآباد /22 اپریل (سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے پرانے شہر کو ’’منی پاکستان‘‘ اور کریم نگر کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا۔ ہندوستان میں اگر کہیں دھماکہ ہوتا ہے تو پاکستان پر شک کیا جاتا ہے، اسی طرح پاکستان میں کہیں دھماکہ ہوتا ہے تو ہندوستان پر شک کیا جاتا ہے۔ اس الزام تراشی کی روایت کو حیدرآباد کے سیاسی قائدین نے بھی اپنا لیا ہے۔ یہ قائدین حیدرآباد میں عوامی مسائل، ترقی اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کو اپنا موضوع بنانے کی بجائے مذہب کو سیاست سے جوڑکر اپنی روٹیاں سینکنے کی کوشش کرتے ہیں، جب کہ عوامی مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔ قبل ازیں ریاستی وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ حیدرآباد میں دہشت گرد سرگرمیاں نہیں ہیں اور نہ ہی شہر کے عوام دہشت گردوں کی تائید کرتے ہیں، لیکن راجہ سنگھ نے کریم نگر میں بی جے وائی ایم کے اجلاس سے خطاب کے دوران ایک بار پھر زہرافشانی کرتے ہوئے حیدرآباد کو منی پاکستان اور کریم نگر کو آئی ایس آئی کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا۔ انھوں نے مسلم ووٹ بینک کی خاطر اس طرح کی سرگرمیوں کو نظرانداز کرنے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا۔ واضح رہے کہ جمہوریت نے اظہار خیال کی آزادی ضرور دی ہے، تاہم اس کے غلط استعمال کی اجازت کسی کو نہیں دی، اس کے باوجود ایوانوں میں تمام مذاہب کے احترام کا حلف لینے والے منتخب نمائندے اس قسم کی حرکت سے باز نہیں آتے، یعنی منافرت پھیلاکر سیاسی فائدہ اٹھانا سیاسی قائدین کے لئے فیشن بن گیا ہے، جب کہ اس قسم کی منافرت کے اثرات قوم اور امن و امان پر کیا مرتب ہوں گے، انھیں اس کی کوئی پروا نہیں، سیاسی قائدین صرف اپنی دوکان چمکانے میں مصروف رہتے ہیں۔