پاکستان :ہیلی کاپٹر حادثہ، فلپائن اور ناروے کے سفیروں سمیت 6 ہلاک

اسلام آباد ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک پاکستانی فوجی ہیلی کاپٹر جس میں 11 بیرونی ممالک کے شہری بھی سوار تھے، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں حادثہ کا شکار ہوگیا، جہاں ہلاک ہونے والوں میں فلپائن اور ناروے کے سفراء شامل ہیں۔ اس ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے اور اس کا یہ ادعا بھی ہیکہ اصل نشانہ وزیراعظم نواز شریف تھے۔ دوسری طرف پاکستانی افواج نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے گلگت و بالتستان میں کسی بھی دہشت گرد حملے کے مکانات کی تردید کی ہے۔ ناروے کے سفیر لیف ایچ لارسن اور فلپائن کے سفیر ڈومنگو ڈی لوشنیاریو جونیر کے ساتھ انڈونیشیاء اور ملائشیا کے سفراء کی بیویاں بھی مہلوکین میں شامل ہیں۔ دیگر مہلوکین میں دو فوجی پائلٹس کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو بدنصیب ہیلی کاپٹر پر سوار تھے جو شعلہ پوش ہوکر ایک اسکولی عمارت پر گر پڑا، جہاں اس وقت طلباء بھی موجود تھے۔

ابتدائی رپورٹس کے مطابق 6 پاکستانی اور 11 بیرونی ممالک کے افراد Mi-17 ہیلی کاپٹر پر سوار تھے۔ تاہم وادی نالتار میں ہنگامی لینڈنگ کے دوران شعلہ پوش ہوگیا اور جس اسکول کی عمارت پر ہیلی کاپٹر گرا، وہ عمارت بھی شعلہ پوش ہوگئی۔ دریں اثناء فوجی ترجمان میجر جنرل اسلم سلیم باجوا نے بھی مندرجہ بالا تمام ہلاکتوں کی توثیق کی۔ علاوہ ازیں زخمی ہونے والوں میں پولینڈ کے سفیر اینڈریج انانی زولش اور ڈچ سفیر مارسیل ڈی ونک شامل ہیں۔ مسٹر باجوا نے مزید کہا کہ Mi-17 کے تین ہیلی کاپٹرس متعدد سفارتکاروں کو کلگت۔ بالتستان (پاکستان مقبوضہ کشمیر) لے جارہے تھے، جہاں وزیراعظم نواز شریف ایک تقریب سے خطاب کرنے والے تھے۔ تحریک طالبان پاکستان نے ہیلی کاپٹر مار گرانے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور واضح طور پر کہا کہ ان کا اصل نشانہ نواز شریف تھے۔ طیارہ شکن میزائیل سے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹی ٹی پی کے کلیدی ترجمان محمد خراسانی نے بتایا کہ تحریک طالبان کے ایک خصوصی گروپ نے نواز شریف کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن نواز شریف اس لئے بچ گئے کیونکہ وہ دوسرے ہیلی کاپٹر میں سفر کررہے تھے۔ دوسری طرف مسٹر باجوا یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کی وہ سے حادثہ کا شکار ہوا لہٰذا دہشت گرد حملے کے امکانات کو انہوں نے یکسر مسترد کردیا حالانکہ مابقی دو ہیلی کاپٹرس نے بحفاظت لینڈنگ کی لیکن تیسرا ہیلی کاپٹر حادثہ کا شکار ہوگیا۔ جیسا کہ ایوی ایشن کے قواعد و ضوابط ہیں، اس حادثہ کی تحقیقات کیلئے ایک تحقیقاتی بورڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ نواز شریف اس علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے دو پراجکٹس کا افتتاح کرنے والے تھے لیکن ان کے طیارہ کا رخ دوبارہ اسلام آباد کی جانب موڑ دیا گیا تھا، جہاں اس نے بحفاظت لینڈنگ کی۔ نواز شریف نے سفارتکاروں کی ہلاکت پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان میں ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔