پاکستان کے 90 ہندوئوں کو ہندوستانی شہریت

احمد آباد میں تقریب، اسناد اور صداقت ناموں کی حوالگی

احمدآباد۔22 جون (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان سے تعلق رکھنے والے 90 ہندوئوں کو آج یہاں منعقدہ ایک تقریب میں ضلع حکام کی طرف سے ہندوستانی شہریت دی گئی جو چند سال قبل یہاں آئے تھے۔ ڈسٹرکٹ کلکٹر وکرانت پانڈے نے 90 درخواست گزاروں کو 1955 ء کے قانون شہریت کی دفعات کے مطابق انہیں ہندوستانی شہریت کے صداقت نامے اور اسناد حوالہ کیا۔ پانڈے نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’مرکز نے 2016ء میں افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے سکھ اور ہندو جیسے اقلیتی طبقات کو شہریت دینے کا عمل غیر مرکوز کردیا تھا۔‘‘ دسمبر 2016ء میں جاری کردہ ایک گزٹ اعلامیہ کے ذریعہ احمد آباد، گاندھی نگر اور کچھ کے ڈسٹرکٹ کلکٹرس کو گجرات میں رہنے والے ان طبقات کے ارکان کو شہریت جاری کرنے کے اختیارات دیئے گئے تھے۔ پانڈے نے کہا کہ ’’90 افراد کو رکنیت دینے کے بعد نئے طریقہ کار کے مطابق شہریت دینے کے معاملہ میں احمد آباد کو تمام اضلاع پر سبقت حاصل ہوگئی ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’2016ء سے احمد آباد ڈسٹرکٹ کلکٹریٹ تاحال 320 افراد کو شہریت دے چکا ہے۔ ملک کے کسی بھی دوسرے ضلع میں اس تعداد میں شہریت کے صداقت نامے جاری نہیں کئے گئے ہیں۔ 320 درخواست گزاروں میں 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے ماباقی بنگلہ دیش کے ہیں۔‘‘ کلکٹر نے کہا کہ اب یہ افراد بھی چونکہ ہندوستانی شہری بن چکے ہیں چنانچہ آدھار، پاسپورٹ اور دیگر فوائد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ انہوںن ے کہا کہ ’’فہرست رائے دہندگان میں بھی ان افراد کے نام شامل کئے جائیں گے۔‘‘ شہریت حاصل کرنے والے افراد نے انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور بالآخر خود کو ہندوستانی کہلالئے جانے پر خوشی محسوس کررہے ہیں۔ چند افراد نے پاکستان میں اپنے تجربات کا تذکرہ کیا جس کے سبب انہیں اپنا کاروبار اور عزیز و اقارب کو چھوتے ہوئے طویل مدتی ویزا پر ہندوستان آنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا۔