پاکستان کے پاس ہندوستان سے زائد نیوکلیئر وار ہیڈس

لندن ۔ 19 جون (سیاست ڈاٹ کام) سویڈن کے ایک سرکردہ مفکر ادارہ کے مطابق نیوکلیئر وارہیڈس کی تیاری کے معاملے میں ہندوستان پر پاکستان کی سبقت بدستور برقرار ہے جبکہ چین نے اپنے نیوکلیئر وارہیڈس کی مقدار کو دوگنا کردیا ہے۔ اسٹاکہوم پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سپری) کی طرف سے نیوکلیئر اسلحہ کی سالانہ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے رواں سال 140-150 نیوکلیئر وار ہیڈس کا اضافہ کیا جو گذشتہ سال کے مقابلے 10 زائد ہیں۔ اس کے برخلاف ہندوستان نے 130-140 نیوکلیئر وارہیڈس بنائے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی اپنے نیوکلیئر اسلحہ کے ذخائر کو وسعت دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ جدید زمینی، بحری اور فضائی میزائلس بھی تیار کررہے ہیں۔ چین بھی اپنے نیوکلیئر اسلحہ کو بدستور عصری بنا رہا ہے اور آہستگی کے ساتھ اپنے نیوکلیئر اسلحہ کے ذخیرہ میں اضافہ کررہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہاگیا ہیکہ دنیا بھر کے تمام نیوکلیئر وارہیڈس کا 92 فیصد حصہ روس اور امریکہ میں موجود ہے۔ سویڈن کے اس ادارہ نے کہا کہ 2018ء کے آغاز پر 9 ممالک امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین، ہندوستان، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس مجموعی طور پر 14,465 نیوکلیئر وار ہیڈس تھے، جن کے منجملہ 3750 ہی حقیقی طور پر تعینات کئے گئے ہیں۔ 2017ء کے آغاز پر 14,935 نیوکلیئر وارہیڈس تھے لیکن امریکہ اور روس کے مابین 2010ء میں طئے شدہ تحدیدات اسلحہ سمجھوتہ کے تحت یہ کٹوتی ہوئی ہے۔ فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 280، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140-150، ہندوستان کے پاس 130-140، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 10-20 نیوکلیئر وارہیڈس موجود ہیں۔