پاکستان کی پنجاب حکومت ، آئی ایس آئی، القاعدہ ،حقانی نیٹ ورک میں گھناؤنی سازباز ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے مکان سے دستیاب

کراچی۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) القاعدہ کے امریکہ کے ہاتھوں ہلاک کئے گئے سربراہ اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع مکان کے کمپاؤنڈ سے جو فائیلیں ملی ہیں، ان کے مطالعہ کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے القاعدہ کے ثالثی کے ذریعہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) معاہدہ امن کو قطعیت دینے کی کوشش کی تھی تاکہ پنجاب میں ان کے خلاف کوئی آپریشن نہ کرے۔ معروف اخبار ’’ایکسپریس ٹریبون‘‘ کے مطابق فائل میں موجود مختلف دستاویزات کے ساتھ ایک مکتوب بھی موجود ہے جو کسی عطیہ عبدالرحمن (محمود) کی جانب سے تحریر کیا گیا ہے جو اس وقت کی القاعدہ کی مینیجر تھیں۔ مکتوب، اسامہ بن لادن کو تحریر کیا گیا ہے (جس کی شناخت شیخ ابو عبداللہ کی حیثیت سے ہوئی) مکتوب جولائی 2010ء میں تحریر کیا گیا تھا جس میں اسامہ کو مطلع کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ نواز شریف ٹی ٹی پی سے امن معاہدہ کے خواہاں ہیں جس کی قیادت بن لادن سے قریب تر تصور کی جاتی ہے۔

اس میں مزید تحریر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومت معمول کے تعلقات کو بحال کرنے تیار ہے بشرطیکہ تحریک طالبان پاکستان پنجاب میں کوئی آپریشن انجام نہ دے جبکہ مجوزہ معاہدہ کے تحت پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گرد حملوں کو قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح کے مختلف مکتوبات کے ذریعہ القاعدہ اور آئی ایس آئی کے درمیان سازباز کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ القاعدہ کا بات چیت کرنے کا طریقہ کار بے حد آسان تھا۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے پاکستان کو وضاحت کردی تھی کہ وہ اسے (القاعدہ) اس کے حال پر چھوڑ دے ورنہ دہشت گرد حملوں کے لئے تیار ہے۔ رحمان کے مکتوب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ القاعدہ کا انحصار حقانی نیٹ ورک کے قائد سراج حقانی پر تھا اور القاعدہ اپنے پیغامات اسی نیٹ ورک کے ذریعہ عام کرتا تھا کیونکہ حقانی نیٹ ورک کو فوج اور انٹلیجنس کا تعاون حاصل تھا۔ مکتوب میں متعدد آئی ایس آئی قائدین کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جنہوں نے اس وقت القاعدہ سے بات چیت بھی کی تھی۔