پشاور ۔ 14 فبروری۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے بدامنی سے متاثرہ شمال مغربی علاقہ میں کل ایک مسجد پر کئے گئے حملے میں مہلوکین کی تعداد بڑھکر 22 ہوگئی ہے ۔ آج مزید ایک شخص زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ طالبان خودکش بمباروں نے امامیہ مسجد امام بارگاہ واقع حیات آباد علاقہ میں گھس کر یہ حملہ کیا تھا ۔ اُس وقت جمعہ کی نماز کیلئے لوگوں کی کثیرتعداد موجود تھی ۔ انھوں نے بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ فائرنگ بھی کردی جس میں 22 افراد ہلاک ہوگئے اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے ۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جبکہ دو ہفتے قبل صوبہ سندھ میں نماز جمعہ کے دوران ایک مسجد کو خودکش حملہ کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 61 افراد بشمول بچے ہلاک ہوگئے تھے ۔
تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ انتقامی کارروائی کا یہ پہلا جواب ہے ۔ حیات آباد میڈیکل کامپلکس کے ایک ڈاکٹر نے مہلوکین کی تعداد 22 ہونے کی توثیق کی ہے ۔ طالبان ترجمان محمد خراسانی نے کہا کہ حکومت نے پشاور اسکول قتل عام کے بعد دہشت گردوں کو پھانسی دینے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ، یہ اُس کا انتقام ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے حملے کی مذمت کی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا ۔ انھوں نے کہاکہ شہروں میں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف بھی ضربِ عضب کارروائی شروع کی جانی چاہئے ۔ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے مسجد میں کئے گئے اس حملے کی مذمت کی اور کہا کہ بے قصور افراد کو اُن کے مذہبی عقیدے کی بناء مذہبی مقامات کو جس انداز میں نشانہ بنایا جارہا ہے اُس پر انھیں بیحد افسوس ہے ۔