فسطائیت کے اس دور میں امن کی ضرورت پر اجلاس، سماجی جہدکار سندیپ پانڈے کا خطاب
حیدرآباد۔28جولائی (سیاست نیوز) پاکستان کی عدلیہ او رعوام دونوں سے ہمیںسبق سیکھنے کی ضرورت ہے ‘ عدالت نے اپنے ہی وزیر اعظم کو بدعنوانی کے الزام ثابت ہونے کے بعد سزا سنائی اور عوام نے شدت پسند ذہنیت کے حامل سیاسی قائدین کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ دنیا بھلے ہی پاکستان کو دہشت گردوں کو پناہ دینے والے ملک کے نام سے پکارتی ہے مگر یہاں کی عوام اور عدالتیں نہ تو بدعنوانی کو برداشت کرسکتی ہیں اور نہ ہی دہشت گردوں کو سیاسی پناہ لینے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں۔میگاسیسی ایوارڈ یافتہ سماجی جہدکار سندیپ پانڈے نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ وہ آج یہاں لامکان بنجارہ ہلز میں’فسطائیت کے اس دور میں امن کی ضرورت ‘ کے عنوان پر منعقدہ ایک نشست سے مخاطب تھے۔ انہو ںنے کہاکہ دونوں ممالک کے سیاسی حالا ت میںیکسانیت پائی جاتی ہے ۔جس طرح کا ماحول ہندوستان میں اقلیتوں کے متعلق ہے ٹھیک اسی طرح کے ماحول کا پاکستان کے اقلیتیں سامنا کرتی ہیں مگر دونوں ممالک کی عام عوام کی اکثریت ہندپاک دوستانہ تعلقات کی خواہش مندہے اور اس کے لئے 1998سے ہماری کوششیں جاری ہیں مگر ہمارے ملک کے سیاسی وسماجی حالات ہماری اس کوشش میںرکاوٹ بن رہے ہیں۔ سندیپ پانڈے نے کہاکہ دیکھنا یہ ہے کہ اب پاکستان میں تشکیل پارہی نئی حکومت دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو ہموار کرنے کے متعلق کیافیصلے کرتی ہے۔ انہو ںنے کہاکہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کو تو وہاںکی عوام نے ان کی اوقات دیکھا دی ہے اوریہ ثابت کردیا کہ اگر ملک کی عوام چاہے تو کوئی بھی شدت پسند تنظیم یا سیاسی جماعت اقتدار کو چھو نہیںسکتی ۔ انہو ںنے کہاکہ رہا فوج اور آئی ایس آئی کاسوال تو اگر نئی حکومت فوج اور وہاں کی خفیہ ایجنسی کے ہاتھوں کا شکار نہیںبنتی ہے تو یقینا دونوں ممالک کے عوام کی مرضی کے مطابق امن کی بات چیت خوشگوار ماحول میںشروع ہوسکتی ہے۔ کئی مرتبہ گجرات سے ہند پاک امن مارچ کی شروعات کی اور پچھلی مرتبہ کے ہمارے مارچ میںوزیراعظم نریندرمودی کی اہلیہ جشودا بین بھی شامل ہوئی تھیں۔ سندیپ پانڈے نے کہا کہ جب ہم نے ان سے ہندپاک امن مارچ سے متعلق واقف کروایا تو وہ مارچ میںشامل ہونے کے لئے رضامندی کا اظہار کیا۔ گجرات کے تمام علاقائی نیوز پیپرس نے اس مارچ کی خبر شائع نہیںکی مگر انگریزی او ردوسری ریاستوں کے ہندی اخباروں نے اس خبر کووزیراعظم نریندر مودی کی اہلیہ کے حوالے سے شائع کیاتھا۔ مسٹر سندیپ پانڈے نے کہاکہ ملک کے موجودہ حالات بالخصوص پچھلے چارسالوں میںہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات ہمیں دوبارہ ملک کے اندر درکار امن کے مارچ کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔ گائے کے نام پر تشددمیںعام طور پر بے قصور لوگ ہلاک ہورہے ہیںجن کا تعلق کسی ایک خاص مذہب( مسلم اقلیت) سے ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے نظریات کو نافد کرنے کے لئے منظم طریقے سے مسلمانوںکو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ بھلے ہی یہ سیاسی ایجنڈے کے طور پر کہی گئی بات ہوگی کہ بی جے پی 2019کے انتخابات میںدوبارہ اقتدار میںآتی ہے تو بی جے پی اور آر ایس ایس ملکر اس ملک کو ہندوراشٹر بنادیں گے ‘ یہ ملک ہندو پاکستان بن جائے گا ‘ مگر جس طرح کے بیان بی جے پی قائدین دے رہے ہیں اور ہجومی تشدد کے ملزمین کے ساتھ جس طرح کا ہمدردانہ رویہ بی جے پی کے وزراء اپنائے ہوئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز میںبرسراقتدار سیاسی جماعت کی نیت صاف نہیںہے۔مسٹر سندیپ پانڈے نے کہاکہ ملک میںامن کے لئے 9اگست سے دہلی کے جنتر منتر پر سہ روز بھوک ہڑتال کی شروع کی جائے گی جس کا مقصد دستور ہند کی حفاظت‘ ملک میںہجومی تشدد کو منظم انداز میںختم کرنے کے قانون کانفاذ عمل میںلایاجائے‘ اور ہجومی تشدد کے ملزمین کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھنے والے سیاسی قائدین کی جوابدہی کو لازمی بنانے کاکام کیاجائے اورشہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنانے کاکام کیاجائے۔