اسلام آباد /5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے ملک میں 3 ہفتوں سے جاری سیاسی اتھل پتھل اور بحران کے ہاتھوں مجبور ہوکر آج کہا کہ پاکستان پر حکومت کرنا آسان نہیں ہے۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں تمام پارٹیوں سے تائید کی خواہش کی، جب کہ حکومت اور احتجاجیوں کے درمیان بات چیت کے کئی دور ہونے کے باوجود تعطل ختم کرنے میں ناکامی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان میں بحران کے باعث چین کے صدر زی ژنگ کے دورہ پاکستان کو منسوخ کردیئے جانے پر کہا کہ مجھے امید ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں حکومت کی تائید برقرار رکھیں گی۔ نواز شریف پارلیمنٹ کے ہنگامی مشترکہ اجلاس کے چوتھے دن ایوان سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ اجلاس وزیر اعظم کی حمایت اور بحران پر غور و خوض کے لئے طلب کیا گیا ہے۔ نواز شریف نے احتجاجی مظاہروں کے دوران پارلیمنٹرین پارٹیوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی حکومت چلانا آسان نہیں ہے۔ اپوزیشن نے ہی مجھ پر زور دیا ہے کہ میں استعفی نہ دوں۔ میں اقتدار کی پرواہ نہیں کرتا۔ نواز شریف کا یہ بیان حکومت اور احتجاجی گروپس کے درمیان رات بھر ہوئی بات چیت کے بعد آیا ہے۔ عمران خان کی زیر قیادت تحریک انصاف اور عالم دین علامہ طاہر القادری کی پارٹی پاکستان عوامی تحریک سے حکومت کی بات چیت مسلسل ناکام رہی اور وزیر اعظم کے استعفی کا مسئلہ برقرار ہے۔ اسی دوران نواز شریف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ نے عمران خان کے مطالبات پر اپنا جواب روانہ کردیا ہے،
جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات ثابت ہونے پر پارلیمنٹ تحلیل کردی جائے گی۔ نواز شریف نے استعفی دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ تحریک انصاف نے جو الزامات عائد کئے ہیں، اس کی جانچ ہوگی۔ حکومت نے عمران خان کی پارٹی کی بعض تجاویز کو قبول کرلیا ہے کہ اگر چیف جسٹس آف پاکستان مناسب سمجھیں تو وہ اس کمیشن کے سربراہ بنائے جاسکتے ہیں۔ حکومت نے آج بھی تحریک انصاف پارٹی سے بات چیت کی، لیکن دونوں جانب سے تعطل دور کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔ پاکستان میں بحران جاری رہنے کے دوران نواز شریف نے کہا کہ وہ دستور، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
میں استعفی لئے بغیر نہیں جاؤں گا: عمران خان
اسلام آباد /5 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان تحریک انصاف کے صدر عمران خان نے کہا کہ حکومت پاکستان سے ان کی پارٹی کی بات چیت جاری ہے، مگر وہ وزیر اعظم نواز شریف سے استعفی لئے بغیر نہیں جائیں گے۔ اب قدم پیچھے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جمعہ کی شب دھرنے میں شریک پارٹی کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹیاں تو بات چیت کرتی رہیں گی، لیکن میں وزیر اعظم نواز شریف کے استعفی دینے تک خاموش نہیں رہوں گا۔ انھوں نے کہا کہ صدر چین کے دورہ کی منسوخی کو تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ بتائی جا رہی ہے، جب کہ صدر چین کا یہ دورہ حکومت پاکستان کی خرابیوں کی وجہ سے منسوخ ہوا ہے۔