پاکستان: نفرت انگیز تقریر پر امام مسجد کو پانچ برس قید

لاہور ، 20 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی ایک عدالت نے ایک امامِ مسجد کو مخالف فرقے کے خلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر پانچ برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ فرقہ ورانہ تشدد میں نفرت انگیز تقریریں ’جلتی پر تیل‘ کا کام کرتی ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق مولانا ابوبکر کو رواں برس فروری میں صوبہ پنجاب کے شہر قصور سے گرفتار کیا گیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق اس امام مسجد نے لاہور شہر سے پچاس کلومیٹر جنوب میں واقع قصور شہر کی ایک مسجد میں شیعہ فرقے کے خلاف ایسی نفرت انگیز تقریر کی تھی، جس سے فرقہ ورانہ تشدد پھیلنے کا خدشہ تھا۔ استغاثہ کے ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے نفرت انگیز تقریر کرنے پر اس امام مسجد کو پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ اس امام مسجد نے انتہائی جارحانہ انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیعہ فرقے کے پیروکار ’کافر‘ ہیں اور اس کے بعد مسجد میں ایسے ہی نعرے بھی لگائے گئے تھے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ’نیشنل ایکشن پلان‘ کے تحت اب تک درجنوں مساجد کے ائمہ کو نفرت انگیز تقاریر کرنے پر گرفتار کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے اور ان مقامی مذہبی قائدین کا تعلق تقریباً سبھی فرقوں سے تھا۔ حکام کے بقول یہ کارروائی بلاامتیاز کی جا رہی ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق فی الحال اس سلسلے میں اعداد و شمار فراہم نہیں کئے جا سکتے کہ کتنی مساجد کے ائمہ کو گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ ابھی تک اس بارے میں ملک بھر سے ڈاٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ لاہور کے ڈسٹرکٹ پراسکیوٹر شیخ سعید احمد نے بھی اس امام مسجد کو سنائی جانے والی سزا کی تصدیق کر دی ہے۔ گزشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستان میں فرقہ ورانہ تشدد کی وجہ سے ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ کراچی میں ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے ایک واقعے میں ایک بس میں سوار اسماعیلی فرقے کے 44 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔