پاکستان میں 2 دہشت گردوں عقیل اور ارشد محمود کو پھانسی

اسلام آباد ۔ /19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی حکام نے جمعہ کی شب دو دہشت گردوں کو پھانسی دیدی ہے ۔ فوجی ہیڈکوارٹرس اور سابق فوجی حکمران پرویز مشرف پر حملوں کے کیس میں انہیں سزائے موت دی گئی تھی ۔ پاکستان میں سزائے موت پر پابندی کیلئے اپنے احکام کے چند دن بعد حکومت پاکستان نے ان دونوں دہشت گردوں عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور ارشد محمود کو رات 9 بجے پھانسی دی ہے ۔ رات میں پھانسی دینے کا یہ پہلا واقعہ ہے ۔ عموماً مجرمین کو فجر میں سزائے موت دی جاتی رہی ہے ۔ یہ دونوں ان 17 دہشت گردوں میں شامل ہیں جنہیں سزائے موت سنائی گئی تھی ۔ وزیراعظم نواز شریف نے منگل کے دن پشاور اسکول قتل عام کے پیش نظر سزائے موت کو ختم کردینے کے اپنے فیصلے کو واپس لیا ہے ۔

راؤلپنڈی کے فوجی جنرل ہیڈکوارٹرس پر 2009 ء میں حملے کے دوران عقیل عر ف ڈاکٹر عثمان کو زخمی حالت میں زندہ گرفتار کیا گیا تھا اسے سزائے موت دی گئی تھی جبکہ ارشد محمود جو مہربان کے نام سے مشہور تھا سابق صدر اور فوجی سربراہ پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کی کوشش کیلئے مجرم قرار دیا گیا تھا ۔ پاکستان کے بڑے ٹی وی چیانلوں نے عقیل اور محمود کی مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے فیصل آباد جیل میں پھانسی دی جانے کی اطلاع دی ہے ۔ دونوں کو پھانسی دینے سے قبل طبی معائنہ کیا گیا اور ان کی آخری خواہش پوچھی گئی۔ صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل کے حکام نے پھانسی کی تصدیق کی ہے۔ فوجی سربراہ راحیل شریف نے کل رات ہی ان کے پروانہ موت پر دستخط کئے تھے ۔