پاکستان میں انسداد دہشت گردی منصوبہ پر تبادلہ خیال

اسلام آباد ۔ 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پشاور اسکول قتل عام کے بعد ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے کیلئے تیار شدہ منصوبہ عمل پر آج وزیراعظم نواز شریف سے تبادلہ خیال کیا۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ’’چیف آف آرمی اسٹاف نے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی سرکوبی کیلئے قومی منصوبہ عمل کو بروئے کار لانے سے متعلق امور پر وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا‘‘ لیکن اس اجلاس کی تفصیلات سے باخبر عہدیداروں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے اپنے حالیہ دورہ بیجنگ کی تفصیلات سے وزیراعظم کو واقف کروایا جہاں انہوں نے چین کی اعلیٰ سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقات اور بات چیت کی تھی۔ پشاور میں فوج کی طرف سے چلائے جانے والے اسکول پر طالبان کے بربریت انگیز دہشت گرد حملہ میں اکثر بچوں کے بچوں 150 افراد کی ہلاکتوں کے بعد پاکستان نے اس ملک سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ایک قومی ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ سربراہ فوج اور وزیراعظم نے 23 مارچ کو ہونے والی پاکستانی مسلح فورسیس کی مشترکہ پریڈ پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس کو کامیاب بنانے کے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ پاکستانی مسلح افواج کی تینوں شاخوں کی مشترکہ پریڈ یوم پاکستان تقاریب کی اہم خصوصیت ہوتی ہے جس میں فوجی طاقت اور تہذیبی سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ یوم پاکستان کی آخری مشترکہ فوجی پریڈ 23 مارچ 2008ء کو اس وقت کی جنرل پرویز مشرف حکومت کے دور میں کی گئی تھی۔ جنرل راحیل شریف نے آج کی ملاقات کے دوران وزیراعظم نواز شریف کو شورش زدہ صوبہ خیبرپختون خواہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری مہم ضرب غضب سے بھی واقف کروایا۔ خیبر۔ 1 اور شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف ’’ضرب غضب‘‘ فوجی مہم شدت کے ساتھ جاری ہے۔