اسلام آباد ، 5 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی طالبان کے نوتشکیل شدہ علحدہ گروپ نے آج ہندوستانی برصغیر میں القاعدہ کیلئے اپنی تائید کا اعلان کیا۔ القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری نے ویڈیو پیام میں میانمار، بنگلہ دیش اور ہندوستان کیلئے نئے دہشت گردانہ نیٹ ورک کی شروعات کا اعلان کیا تھا۔ علحدہ گروپ ’جماعت الاحرار‘ کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک ٹوئیٹ میں ظواہری کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔ احسان نے اردو میں ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم برصغیر میں القاعدہ کی شاخ کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہیکہ یہ برانچ اس خطہ میں مسلمانوں کے حقوق کے حصول کیلئے کام کرے گی۔ ہمارے خیال میں مسلمانوں کو اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے جو اسلامی خلافت کے قیام کے ذریعہ ہی حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ ایک پاکستانی شہری عاصم عمر کو جنوبی ایشیا کیلئے القاعدہ کے گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جماعت الاحرار حال ہی میں تحریک طالبان پاکستان سے علحدہ ہوگئی، جس کی قیادت مفرور لیڈر ملا فضل اللہ کرتے ہیں جو زیادہ تر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہتے ہیں۔ عمر خالد خراسانی کو اس گروپ کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں کئی کٹر باغیوں کی تائید حاصل ہے جن میں احسان شامل ہیں جو گذشتہ کئی برسوں سے سرگرم ہیں۔ اس گروپ کے القاعدہ کے ساتھ قریبی روابط بتائے جاتے ہیں جو اسامہ بن لادن کی پاکستان کے ایبٹ آباد شہر میں 2011ء میں ہلاکت کے بعد سے قابل لحاظ حد تک کمزور پڑ چکی ہے۔