واشنگٹن، 6 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی امکان ہے فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کریں گے بشرطیکہ ہندوستان میں اگلے دہشت گردانہ حملہ کی جڑیں پھر سے پاکستان میں پائی جائیں، ایک سابق اعلیٰ امریکی سفارت کار نے یہ انتباہ دیا ہے لیکن امید ظاہر کی کہ پاکستانیوں کو سمجھ آجائے گا کہ اُن کے ماضی کے برتاؤ کو اب برداشت کیا جانا غیرممکن ہے۔ ’’دہلی میں پارلیمنٹ پر حملہ کے بعد سے جسے اب 15 سال ہونے جارہے ہیں، ہر ہندوستانی وزیراعظم نے ملٹری کارروائی پر سنجیدگی سے غور کیا جب کبھی ایسے واقعات پیش آئے، اور پھر قدم پیچھے ہٹا لئے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ ہندوستان کے اندرون جذبات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ وزیراعظم کا پیچھے کا امکان نہیں ہے،‘‘ سابق امریکی سفیر برائے ہندوستان رابرٹ بلیک ویل نے یہ بات کہی۔ ’’اگر کوئی بڑا دہشت گرد حملہ پیش آئے جس کی جڑیں پاکستان اور
پاکستانی ملٹری نیز آئی ایس آئی تک پہنچتی ہیں، تو میرے خیال میں یہ وزیراعظم ممکن ہے پاکستانی علاقہ کے خلاف ملٹری فورس استعمال کریں گے۔ (گوکہ) ایسا ہونا یقینی نہیں ہے،‘‘ بلیک ویل نے میڈیا والوں کو یہ بات ایک کانفرنس کے دوران کہی، جس کا اہتمام کونسل برائے خارجہ تعلقات (سی ایف آر) نے کیا، جو سرکردہ امریکی ادارہ ہے۔ بلیک ویل نے جو ہندوستان اور جنوبی ایشیا پر گہری نظر رکھتے ہیں، کہا کہ مودی کے پیشرو قائدین کو ہندوستانی ملٹری کی جانب سے مختلف امکانات کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور وہ انھیں کبھی بھی پُرکشش معلوم نہیں ہوئے۔ ’’لیکن میں سمجھتا ہوں مودی بحیثیت شخصیت اور ہندوستانی عوامی رائے اور سارے سماج کے سیاسی جذبات دونوں پہلوؤں کے اعتبار سے عین ممکن ہے اپنے پیشرو قائدین کے برخلاف ملٹری فورس کا استعمال کریں گے۔‘‘