بنگلور ۔ 18 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج کہا کہ ان کی وزارت اس بیان پر قائم ہے کہ سال نو کے موقع پر پوربندر کے ساحل کے قریب پاکستانی عسکریت پسندوں کی کشتی از خود دھماکہ سے غرقاب ہوگئی تھی ۔ جس میں سوار ہو کر یہ عسکریت پسند در اندازی کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ تاہم وزیر دفاع نے یہ اشارہ دیا کہ کوسٹ گارڈ کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ اس کشتی کو ہندوستانی محافظوں نے غرقاب کردیا تھا ۔ انہوں نے یہاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع نے بالکلیہ واضح بیان دیا ہے اور اس پر آج بھی قائم ہیں ۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی کشتی جب ہندوستانی ساحل کے قریب گھس آنے پر کوسٹ گارڈس چیلنج کیا تو کشتی میں سوار مشتبہ افراد نے اسے دھماکہ سے اڑا دیا تھا ۔ مسٹر منوہر پاریکر نے اشارہ دیا کہ کوسٹ گارڈ کے ڈی آئی جی مسٹر بی کے لوشالی نے وزارت دفاع کے موقف کے برخلاف بیان دیا ہے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔ وزیر دفاع کے اس بیان کے بعد پوسٹ کارڈ سربراہ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کردی گئی ہے۔ قبل ازیں ڈی آئی جی کوسٹ گارڈ مسٹر بی کے لوشالی نے یہ بیان دیا تھا
کوسٹ گارڈس نے 31 دسمبر 2014 کو مشتبہ پاکستانی کشتی دھماکہ سے سمندر میں غرق کردیا تھا ۔ جس پر وزیر دفاع نے یہ وضاحت کی ہے اور بتایا کہ ان کے بیان کی تحقیقات اور ویڈیو ریکارڈنگ کے مشاہدہ کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ مسٹر لوشالی نے کل کہا تھا کہ میں ایک راز افشاء کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ کو یاد ہوگا 31 دسمبر کی شب ہم نے پاکستانی کشتی کو دھماکہ سے اڑا دیا تھا ۔ اس وقت میں احمد آباد میں تھا ۔ اور کشتی کو غرق کردینے کا حکم دیا تھا ۔ کیوں کہ ہم انہیں ( کشتی میں سوار افراد ) کی بریانی سے تواضع کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ تاہم لوشالی جو کہ چیف آف اسٹاف نارتھ ویسٹ ریجن ہے اپنے بیان سے منحرف ہوگئے اور کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اس واقعہ سے متعلق ثبوت جاری کرسکتے ہیں بشرطیکہ منظر عام پر لانے کے لیے حالات متقاضی ہوں ۔ دریں اثناء پاکستان نے ہندوستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کر رہا ہے جیسا کہ سمجھوتہ ایکسپریس مقدمہ میں کیا تھا۔