علیحدگی پسندوں کی تائید ، یاتریوں کو اُکسانے کا الزام ، وزارت خارجہ کا بیان
نئی دہلی۔ 23 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور اسلام آباد میں اپنے سفارتی نمائندہ اور قونصل عہدیداروں کو گردوارہ پنجہ شاہ تک رسائی اور وہاں پہونچنے والے ہندوستانی سکھ یاتریوں سے ملاقات کا موقع دینے سے انکار پر سخت احتجاج کیا۔ پاکستان کو مطلع کیا گیا کہ ہندوستانی ہائی کمیشن کے عہدیداروں کو ان کی سفارتی ذمہ داریوں کو انجام دینے سے باز رکھنا سفارتی تعلقات سے متعلق 1961ء ویانا سمجھوتہ اور مذہبی مقامات کے دوروں سے متعلق 1974ء کے باہمی سمجھوتہ کے مغائر ہے۔ وزارت اُمورِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈپٹی ہائی کمشنر سید حیدر شاہ کو طلب کیا گیا اور ہندوستانی ہائی کمشنر اجئے بساریہ کے علاوہ دیگر قونصل عہدیداروں کو صوبہ پنجاب میں واقع گردوارہ پنجہ شاہ کا دورہ کرتے ہوئے وہاں پہونچنے والے ہندوستانی یاتریوں سے ملاقات کا موقع دینے سے انکار پر سخت احتجاج درج کروایا۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ہندوستان میں علیحدگی پسند تحریکات کو پاکستان کے اداروں اور تنظیموں کی طرف سے کی جانے والی تائید و حمایت کے علاوہ ہندوستانی یاتریوں کو اُکسانے کی بارہا کوششوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستانی حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستانی سرزمین سے اس قسم کی کوئی سرگرمی جاری نہ رکھی جائے‘‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی ہائی کمیشن نے بھی اسلام آباد میں اس واقعہ پر سخت احتجاج درج کروایا۔ پاکستان نے مسلسل دوسری مرتبہ ہندوستانی ہائی کمیشن کو ان دورہ کنندہ یاتریوں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جو ہندوستانی شہری ہیں۔