اسلام آباد ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) جاسوسی کے الزام میں زیر حراست پاکستان فضائیہ کے افسر سکوارڈن لیڈر حسن کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف الزامات مفروضے پر مبنی ہیں اور حراست میں لیے جانے کے چھ ماہ بعد بھی انھیں چارج شیٹ نہیں دی گئی ہے۔افسر کی حراست کا معاملہ پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت سامنے آیا تھا جب ان کی اہلیہ کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا تھا کہ ملزم کے خلاف تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد ان کا کورٹ مارشل کیا جائے گا۔جسٹس نور الحق قریشی کی عدالت میں زیر سماعت اس درخواست میں پاکستان فضائیہ کی طرف سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ایئر ویپن کمپلیکس حسن ابدال میں تعینات سکوارڈن لیڈر حسن کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور اس ضمن میں ایک ٹیم ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے جو جلد ہی مکمل ہو جائیں گی۔عدالت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ ان پر کس قسم کی جاسوسی کرنے کے الزامات ہیں اور تفتیش کہاں تک پہنچی ہے۔درخواست گزار کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام رحیم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاسوسی ایک ایسا الزام ہے جو کسی پر بھی لگا کر ان کے خلاف تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں۔اْنھوں نے کہا کہ سکوارڈن لیڈر کو گذشتہ برس نومبر میں حراست میں لیا گیا تھا جبکہ چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی مکمل نہیں کی گئی۔