پاپڑ والی خالہ ، راشد بی

عام آدمی کی خاص بات
پاپڑ والی خالہ ، راشد بی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی ) : حیدرآباد جہاں تقریبا 700 برس تک مسلمانوں نے بادشاہت کی اور دنیا کو اپنی فیاضی اور سخاوت سے نوازا ۔ آج اسی حیدرآباد میں ہمارے کئی مسلم بہنیں اور بھائی اپنی زندگی گذارنے کے لیے رات دن ایک کردینے پر مجبور ہیں ۔ مہنگائی کے اس دور نے ان کی رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے ۔ دراصل آج ہم نے ایک مسلم خاتون کو بنڈی ڈھکیلتے ہوئے دیکھا تو ان سے ان کے حالات جاننے کی کوشش کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا نام راشد بی ہے اور ان کی عمر 65 سال ہے ۔ سال 2000 میں وہ مہاراشٹرا سے حیدرآباد منتقل ہوئے ۔ انہیں دو بیٹے تھے جن میں ایک 18 سال کی عمر میں تالاب میں ڈوب کر انتقال ہوگیا ۔ جب کہ ایک باحیات ہے اور وہ آٹو چلاتا ہے ۔ راشد بی نے بتایا کہ انہیں تین بیٹیاں بھی ہیں اور الحمدﷲ تینوں کی شادیاں ہوچکی ہیں ۔ شوہر کے حوالے سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر بھی بنڈی چلاتے تھے اور اس پر کبھی میوا اور کبھی ترکاریاں فروخت کیا کرتے تھے ۔ مگر تقریبا 9 سال پہلے ذہنی طور پر معذور ہوگئے تھے اور پھر اچانک کہیں گم ہوگئے ۔ ہم نے انہیں تلاش کرنے کی حتی الامکان کوشش کی مگر بدقسمتی سے ناکام رہے ۔ محمدی لائن میں کرایہ کے گھر میں مقیم راشد بی ، جو ’’پاپڑ والی خالہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں ، نے مزید بتایا کہ کافی تلاش کے بعد جب ان کے شوہر نہیں مل سکے تو انہوں نے ہی اپنے گھر کی کفالت کا ذمہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور پھر گذشتہ 15 سال سے اسکولوں کے سامنے بنڈی لگاکر کبھی بیر ، کبھی پاپڑ تو کبھی جام فروخت کرتی ہیں ۔ راشد بی نے کہا وہ اپنے بیٹے پر بوجھ نہیں بننا چاہتی اس لیے وہ خود ہی رات دن محنت کرنا پسند کرتی ہیں تاکہ گھر کے اخراجات کی تکمیل کی جاسکے ۔ ہمارے شہر میں ہماری مسلم بہنوں کی یہ حالت زار دیکھ کر کافی افسوس ہوتا ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ایسی خواتین کو وظیفہ بھی نہیں دیا جاتا ہے ۔ راشد بی نے بتایا کہ کافی چکر کاٹنے کے بعد بھی انہیں وظیفہ نہیں مل سکا جب کہ حکومت نے ایسے لوگوں کے لیے 1000 روپئے کا وظیفہ منظور کیا ہے ۔ بہر حال ہم سے بات کرنے کے بعد وہ آگے بڑھ گئی مگر ہم دور تک انہیں دیکھتے اور سوچتے رہ گئے ۔۔