پانی کے مسائل مرسل :ابوذکوان

٭ اگر کنویں میں ایک بِلّی یا کبوتر یا ان کے برابر یا ان سے بڑا لیکن بکری سے چھوٹا کوئی جانور گر کے مرجائے یا مرا ہوا گر جائے مگر ابھی پھولا پھٹا نہ ہوتو اس صورت میں چالیس یا ساٹھ ڈول پانی نکالنے سے کنواں پاک ہوجائے گا اور اگر ایک چوہا یا اس کے برابر یا اس سے بڑا مگر بِلّی سے چھوٹا کوئی جانور گر کے مرجائے یا دو چوہے گر کے مرجائیں تو بیس یاتیس ڈول پانی نکال دینے سے کنواں پاک ہوجائے گا ۔
٭ کنویں کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس چیز کو نکال دیں جس کے گرنے سے کنواں ناپاک ہوا ہے پھر جس جس قدر پانی کے نکالنے کا حکم ہے (جو مذکور ہوا ) اسی قدر پانی نکال دیں ۔
٭ جس صورت میں کنویں کا تمام پانی ناپاک ہوگیا ہو اس وقت ضروری ہے کہ تمام پانی نکال دیا جائے ۔ اگر کسی وجہ سے یہ ناممکن ہو تو پے در پے دو سو یا تین سو ڈول پانی نکال ڈالیں کنواں پاک ہوجائے گا ۔
٭ اگر (بدجانور کے سوا ) کوئی سا جانور کنویں میں گر جائے اور پھر زندہ نکل آئے تو کنواں ناپاک نہ ہوگا ۔ بشرطیکہ اس کے جسم پر نجاست نہ ہو اور اس کا منہ پانی میں نہ ڈوبا ہو ( اگر جسم پر نجاست ہو تو پانی ناپاک ہوجائے گا اور اگر منہ پانی میں ڈوبا ہو تو پھر اس کے جھوٹے کا حکم جاری ہوگا ۔ یعنی اگر جھوٹا پاک ہے تو پانی بھی پاک اور اگر جھوٹا ناپاک یا مشکوک و مکروہ ہے تو پانی بھی ناپاک یامشکوک و مکروہ )۔
(اقتباس: نصاب اہل خدمات شرعیہ حصہ دوم)