واشنگٹن۔ 6 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے چاروں طرف سے ایران کو گھیرنے کا تہیہ کرچکا ہے ۔اب اس نے پاسدارن انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کی تیاری کر لی ہے۔ ٹرمپ انتطامیہ نے اگر یہ اقدام کیا تو یہ دنیا میں کسی بھی ملک کی فوج کو دہشت گرد قرار دینے کا پہلا واقعہ ہو گا۔امریکی حکومت پاسداران انقلاب کے بعض اہلکاروں کو پہلے ہی غیر ملکی دہشت گرد قرار دے چکی ہے تاہم یہ اپنی نوعیت کا تاریخی واقعہ ہو گا۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے پاسدارن انقلاب نے شام میں باغیوں کے خلاف بشارالاسد حکومت کا ساتھ دیا تھا، لبنان حکومت میں شامل تنظیم حزب اللہ کی سرگرمیوں میں مدد کی تھی اور فلسطین کی تنظیم حماس کی بھی معاونت کی ہے ۔امریکی حکومت دو برس سے اس بات پر غور کررہی ہے کہ آیا پاسداران انقلاب کے خلاف کارروائی کی جائے یا نہیں ۔ 2017 ء میں ایسی ہی اطلاعات پر ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ حکومت کو تباہ کن جوابی اقدام سے خبردار کیا تھا۔پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد علی نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایسی احمقانہ حرکت کی تو پاسداران انقلاب دنیا بھر میں امریکی فوجیوں کو داعش کے طور پر لیں گے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ اس سے پہلے ایران کے خلاف ایک اور بڑا اقدام بھی کر چکا ہے ، ٹرمپ انتطامیہ نے ڈیموکریٹ صدر بارک اوباما کے دور میں ایران سے کی گئی نیو کلیئر معاملت یکطرفہ طور پر ختم کردی تھی۔