مسلمانوں کی ترقی و خوشحالی کے لیے مثبت تبدیلی ضروری ، شہر کی تاریخ میں نئے باب کے آغاز کی امید
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( پی ٹی این ) : ’ملت کو آج اقربا پروری جانبداری اور قائدین کے شخصی مفادات کے ساتھ ساتھ ملت کا جذبہ رکھنے والی شخصیتوں کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔ یہ وقت مفاد پرستی ، خود غرضی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملی مفاد میں سوچنے اور کچھ کرنے کا ہے ۔ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کی انتخابی مہم اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ یہ ملت میں اتحاد کا ایک سنہری موقع بھی ہے ۔ اس گھڑی سے فائدہ اٹھا کر پارلیمنٹ کے لیے مجلس اور اسمبلی کے لیے ایم بی ٹی کی تائید کی جانی چاہئے ۔ اس طرح حیدرآباد سے ہندوستانی مسلمانوں کے نام اتحاد کا ایک نیا انقلابی پیام جائے گا ‘ ۔ یہ خیالات شہر کی ایک معزز و بزرگ شخصیت کے ہیں جو چاہتے ہیں کہ شہر میں جو انتشار پھیلا ہوا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے ۔ مغل پورہ کی ایک معزز شخصیت کے خیال میں ہمارے قائدین اتحاد و اتفاق کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن ان پر عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے ۔ ان صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ایم بی ٹی نے ملک پیٹ اور کاروان سے اپنے امیدوار نہ ٹہراتے ہوئے اتحاد کا ثبوت دیا ہے ایسے میں اگر مسلمان پارلیمنٹ کے لیے ایم آئی ایم اور اسمبلی کے لیے ایم بی ٹی کا انتخاب کرتے ہیں تو حیدرآباد کی سیاست میں صحت مند رجحان آئے گا ۔ دبیر پورہ میں ایک اسکول چلا رہی ماہر تعلیم ایک خاتون کا کہنا ہے کہ برسوں سے اسمبلی حلقوں میں وہی چہرے نظر آتے ہیں ۔ ایوان میں 20 ، 20 برس سے ایک ہی نمائندہ ہمارے حلقہ کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس طرح کا رجحان ملت اور جمہوریت دونوں کے لیے اچھا نہیں اس لیے کہ تبدیلی انسان کی فطرت میں داخل ہے ۔ اگر کوئی تبدیلی کا خواہاں نہیں رہتا تو وہ ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا ۔ ان محترمہ نے نہایت بے باکی سے بتایا کہ یہ صورتحال صرف حیدرآباد میں ہی دکھائی دیتی ہے جب کہ اضلاع میں زیادہ تر ارکان اسمبلی ایک حلقہ میں 5 برس سے زیادہ خدمات انجام نہیں دیتے ۔ ویسے بھی زندگی کے ہر شعبہ میں مسابقت بڑھ گئی ہے ۔
خود تعلیمی شعبہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اگر کوئی طالب علم سال تمام اپنے مضامین پر توجہ مرکوز کرے روزانہ اچھی طرح پڑھتا رہے ۔ مشق کرتا رہے تو اسے عین امتحان کے موقع پر کسی پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑتا ۔ وہ بڑے سکون سے امتحان ہال میں داخل ہو کر بڑی آسانی سے سوالنامہ کو حل کرلیتا ہے ۔ اس کے برعکس اگر کوئی طالب علم سال بھر غفلت کی نیند سوتا رہے اور محنت سے جی چرائے تو امتحانات کے موقع پر اس کی حالت ان امیدواروں کی طرح ہوجاتی ہے جو 5 سال تک عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصر اور ان کی نمائندگیوں میں ناکام رہے ۔ اس خاتون ماہر تعلیم کی اس گفتگو سننے کے بعد ہم سوچنے لگے کہ یقیناً اساتذہ کسی بھی قوم و ملت کی تقدیر پر سنوارنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ سنتوش نگر کے رہنے والے انجینئرنگ طالب علم سے جب ہم نے ملت میں اتحاد اور انتخابات میں مسلمانوں کے رول کی بات کی تو اس نے جو جواب دیا اسے سن کر ہمیں یقین ہوگیا کہ پرانا شہر کا ووٹر بہت باشعور ہوچکا ہے وہ جان چکا ہے کہ اچھے کون ہیں اور برے کون ، اسے اس بات کا اندازہ ہوگیا ہے کہ ملت کے حقیقی ہمدرد کون ہیں اور کون ملت کے نام پر سودے بازی کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل کرتا ہے ؟ آج پرانا شہر کا ووٹر جان چکا ہے کہ آنے والی نسل کو حصول علم اور روزگار سے دور رکھتے ہوئے ان کی ترقی کو اپنے مفادات کی قربان گاہ پر چڑھانے والے کون ہیں ۔ اس انجینئر نوجوان کا جواب آپ بھی سن لیں اس نے کہا ’ پارلیمنٹ کے لیے ایم آئی ایم اور اسمبلی کے لیے ایم بی ٹی کی تائید کی جائے تو یہ ملت کے مفاد میں سب سے بہتر ہوگا ‘ ۔ شہر کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش وولولہ پیدا ہوگا ۔ یہاں تک کہ حکومتی سطح پر مسلمانوں سے نا انصافی کرنے جانبداری و تعصب برتنے انہیں ترقی و خوشحالی سے روکنے کی کوئی جرات نہیں کرسکے گا ۔ اس نوجوان کے پڑوسی نے جو بیرون ملک ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہیں بتایا کہ اگر ایسا ہوجائے تو عوام کا فائدہ ہوگا اور یہ انتخابات سیاسی قائدین کو اتحاد و اتفاق اور ملی ترقی کے لیے مشترکہ ایجنڈہ طئے کرنے سبق دینے ملت کے لیے ایک بہترین موقع ہے ۔ اگر مسلمان پرانا شہر میں اس طرح کی حکمت عملی اپنائیں تو ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ اس ضمن میں ہم نے مدینہ مارکٹ میں ایک مشہور و معروف تاجر پارچہ سے بات کی جس پر ابتداء میں انہوں نے مسکرایا اور پھر کچھ دیر معنیٰ خیز خاموشی اختیار کرتے ہوئے کہنے لگے ’ ارے بھائی اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ملت کے بہتر مفاد میں ہوگا ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ میں چونکہ پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں مسلمانوں کے اس اتحاد کے سامنے ہر حکومت ہر محکمہ بے بس نظر آئے گا کسی کو اس بات کی ہمت نہیں ہوگی کہ مسلمانوں سے نا انصافی کرے ۔
ان کے بچوں کو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کرتے ہوئے سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دے ۔ سرکاری ملازمتوں سے مسلمانوں کو دور رکھتے ہوئے انہیں غربت کے دلدل میں ڈھکیلے یہاں تک کہ پرانا شہر میں کام کررہی بینکس بھی مسلمانوں کو قرض دینے سے انکار کرنے سے پہلے اس کے عواقب و نتائج پر 100 مرتبہ غور کرے گی ۔ بڑا بازار یاقوت پورہ کے قریب کاروبار کرنے والے ایک پہلوان نے اس بارے میں بتایا کہ وہ بھی دیگر مسلمانوں کی طرح یہی سوچتے ہیں کہ ملت میں اتحاد و اتفاق پیدا ہو اگر مسلم ووٹرس پارلیمنٹ کے لیے ایم آئی ایم اور اسمبلی کے لیے ایم بی ٹی کی تائید کریں تو ایسا ممکن ہے ۔ سعید آباد میں رہنے والے ایک جید عالم نے بتایا کہ کم از کم ایم بی ٹی کے ایک امیدوار کی ایم آئی ایم کو تائید کرنی چاہئے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یونائٹیڈ مسلم فورم نے مسلمانوں میں اتحاد کے لیے ایک ایم بی ٹی امیدوار کی تائید کرتے ہوئے حیدرآباد دکن کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرسکتی تھی لیکن اس نے یکطرفہ اقدام کے ذریعہ اپنے موقف اور ملت میں اپنی اہمیت کو گھٹا لیا ہے ۔ دوسری جانب سلطان شاہی کے رہنے والے ایک بزنس مین نے مسلمانوں میں اتحاد اور انتخابات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا اس طرح جواب دیا ۔ ’ پارلیمنٹ کے لیے ایم آئی ایم اور اسمبلی کے لیے ایم بی ٹی ‘ ان کا یہ جواب سن کر ہمیں احساس ہوا کہ پرانا شہر میں بھی مثبت تبدیلی کی لہر آنے والی ہے ۔۔