نئی دہلی 18جولائی(سیاست ڈاٹ کام)اے پی کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کامطالبہ کرتے ہوئے ریاست کی اصل اپوزیشن جماعت وائی ایس آرکانگریس پارٹی نے پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے آغاز کے پہلے ہی دن پارلیمنٹ کے احاطہ میں گاندھی جی کے مجسمہ کے روبر و احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ پارٹی کے ارکان راجیہ سبھا نے یہ دھرنا دیا ۔ان کے ساتھ پارٹی کے چھ سابق ارکان لوک سبھا نے بھی ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام کر یہ احتجاج کیا ۔پلے کارڈس پر”ہم اے پی کے لئے خصوصی درجہ چاہتے ہیں”نعرہ تحریر تھا۔لوک سبھا کی رکنیت سے حال ہی میں پارٹی کے ارکان نے اے پی کو خصوصی درجہ کامطالبہ کرتے ہوئے استعفی دے دیا تھا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے رکن راجیہ سبھا وجئے سائی ریڈی نے کہا کہ قبل ازیں کے پارلیمنٹ اجلاس کے موقع پر ان کی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ وائی وی سباریڈی نے تحریک عدم اعتماد کی نوٹس دی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ اے پی اور مرکزی حکومت نے ریاست سے ناانصافی کی ہے ۔اب خود تلگودیشم پارٹی نے مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی نوٹس د ی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے عوام اس بات سے واقف ہیں کہ ابتدا ہی سے اے پی سے چندرابابونائیڈو نے ہی ناانصافی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام کو دھوکہ چندرابابونائیڈو نے ہی دیا ہے کیونکہ قبل ازیں چندرابابونے اے پی کے لئے خصوصی پیکیج پر رضامندی کااظہارکیا تھا تاہم متحدہ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد سے ہی وائی ایس آرکانگریس ریاست کے لئے خصوصی درجہ کی مانگ کرتی چلی آرہی ہے اور اس مسئلہ پر پارٹی نے کبھی انحراف نہیں کیاجبکہ چندرابابونے کہا تھا کہ اے پی کے لئے خصوصی درجہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خصوصی پیکیج کافی ہے ۔ چندرابابو نے یہاں تک کہا تھا کہ خصوصی درجہ کوئی سنجیونی نہیں ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ اے پی کو خصوصی درجہ ملنے تک وائی ایس آرکانگریس پارٹی اپنی جدوجہد پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جاری رکھے گی۔مسٹر ریڈی نے کہا کہ اے پی کو خصوصی درجہ کے مطالبہ پر ہی ان کی پارٹی کے ارکان لوک سبھا نے اپنے عہدوں سے استعفی دیا ہے جبکہ تلگودیشم پارٹی کے ارکان ڈرامہ کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے ساتھ تلگودیشم نے ایک خفیہ معاہدہ کیاہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈرامے عوام دیکھ رہے ہیں اور آئندہ انتخابات میں دونوں جماعتوں تلگودیشم اور بی جے پی کو اے پی کے عوام سبق سکھائیں گے ۔