پارلیمنٹ کا مانسون سیشن، ٹی آر ایس ایجنڈے میں مسلم تحفظات شامل نہیں

چیف منسٹر نے کوئی ہدایت نہیں دی، ریاست کو درپیش دیگر مسائل پر نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 19 ۔ جولائی (سیاست نیوز) پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کا آغاز ہوچکا ہے لیکن ٹی آر ایس کے ایجنڈہ میں مسلم تحفظات کے مسئلہ کو شامل نہیں کیا گیا۔ گزشتہ سیشن میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات میں اضافہ کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس ارکان نے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی تھی ۔ تاہم اس مرتبہ ابھی تک مسلم تحفظات کے مسئلہ پر احتجاج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ پارٹی نے تلگو دیشم ، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر موقف کو طئے کرنے کیلئے اجلاس منعقد کیا لیکن ارکان پارلیمنٹ کے اس اجلاس میں مسلم تحفظات کا مسئلہ زیر بحث نہیں آیا۔ اجلاس سے قبل اور پہلے دن فلور لیڈر جتیندر ریڈی اور ارکان کویتا اور ونود کمار نے پارلیمنٹ میں پارٹی کے ایجنڈہ کی تفصیلات بیان کی۔ تلنگانہ سے متعلق مختلف مسائل کا ذکر کیا جنہیں اجلاس میں موضوعِ بحث بنایا جائے گا ۔ ریاست کی تقسیم کے وقت تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے، ان کی تکمیل کیلئے حکومت پر دباؤ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن مسلم تحفظات کے مسئلہ پر ابھی تک کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے اعلان کیا تھا مسلم اور ایس ٹی تحفظات کے مسئلہ پر دیگر جماعتوں کی تائید حاصل کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں احتجاج کیا جائے گا ۔ گزشتہ سیشن میں احتجاج سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ حکومت کو اپوزیشن کی تحریک التواء کو ٹالنے کا موقع مل گیا تھا ۔ اب جبکہ مانسون سیشن اہمیت کا حامل ہے، ٹی آر ایس کو مسلم تحفظات پر اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہئے ۔ مسلمانوں کی ناراضگی دور کرنے کیلئے برائے نام احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ پارلیمنٹ سیشن کے دوران نہ صرف ایوان میں اس مسئلہ کو اٹھایا جاسکتا ہے بلکہ چیف منسٹر کے اعلان کے مطابق جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا جانا چاہئے ۔ تحفظات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کا اعلان بھی ابھی تک حقیقت میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔ حکومت کو مسلم تحفظات سے زیادہ آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کی فکر ہے۔ لہذا وہ کسانوں کی اسکیمات پر توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں موضوع بحث بنانے کیلئے جن مسائل کا انتخاب کیا گیا ان میں مسلم اور ایس ٹی تحفظات شامل نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ابھی تک ارکان پارلیمنٹ کو مسلم تحفظات کے مسئلہ پر کوئی ہدایت جاری نہیں کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ سیشن کے دوران ٹی آر ایس تحفظات کے سلسلہ میں اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کس طرح کرے گی۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین اس مسئلہ پر کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بعض قانونی رکاوٹوں کے سبب تحفظات پر عمل آوری ممکن نہیں۔ تاہم چیف منسٹر اپنی مساعی کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ مسلم تحفظات پر چار ماہ میں عمل آوری کا وعدہ چار سال میں مکمل نہ ہوسکا۔ لہذا آئندہ عام انتخابات میں مسلمان اس وعدہ کی بنیاد پر ٹی آر ایس کی دوبارہ تائید کے بارے میں فیصلہ کریں گے ۔