پارلیمنٹ میں کالا دھن مسئلہ کی گونج، آج مباحث متوقع

نئی دہلی 25 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں آج کام کا پہلا دن زبردست شور و غل کی نذر ہوگیا جس میں اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ کالا دھن 100 یوم میں واپس لانے سے متعلق بی جے پی کے انتخابی وعدے پر عمل درآمد کے ضمن میں کچھ بھی نہیں کیا گیا اور حکومت کو کل اس مسئلہ پر مباحث سے اتفاق کیلئے مجبور کردیا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوان میں شور و غل اور گڑبڑ کے مناظر دیکھنے میں آئے اور ایوان زیریں کو مختصر وقفہ کیلئے ملتوی کرنا پڑا جبکہ اپوزیشن نے حکومت کو اس مسئلہ پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی، جو بی جے پی کا ایک بڑا انتخابی موضوع تھا۔ ’’100 دن گزرچکے، کالا دھن کہاں ہے؟‘‘ ترنمول کانگریس، کانگریس، آر جے ڈی ، سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے ارکان نے یہ نعرہ لگایا اور وہ لوک سبھا کے وسط میں پہنچ گئے جبکہ دن کی کارروائی کو شروع ہوئے چند منٹ گزرے تھے۔ ’’کالا دھن واپس لاؤ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اور سیاہ چھتریاں لہراتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے کہا کہ حکومت نے بیرون ملک جمع کالے دھن کو اقتدار پر آنے کے اندرون 100 یوم واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایسا کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔ اس ایوان کو 40 منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا مگر شور و غل جاری رہا جب اس کارروائی وقفہ صفر کیلئے دوپہر میں دوبارہ شروع ہوئی۔ راجیہ سبھا میں بھی اس مسئلہ پر کافی شور برپا ہوا جہاں جیسے ہی ایوان دن کارروائی کیلئے مجتمع ہوا، جے ڈی (یو) ، سماج وادی پارٹی اور ٹی ایم سی ممبرس اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے۔ وہ مسلسل نعرے لگا رہے تھے اور کالے دھن کے مسئلہ پر حکومت پر شدید تنقیدیں کئے جارہے تھے۔

شام تک حکومتی ذرائع نے کہا کہ اس مسئلہ پر کل مباحث کئے جاسکتے ہیں۔ قبل ازیں اپوزیشن نے جاننا چاہا کہ بی جے پی کے انتخابی تیقن پر اب تک عمل آوری کے لئے کیا کیا گیا ہے۔ اِس پر برسر اقتدار پارٹی نے تیقن دیا کہ اِس مسئلہ پر بحث کی جاسکتی ہے۔ آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سرمائی اجلاس کا پہلا کام کا دن تھا کیونکہ کل کا اجلاس موجودہ ارکان کے انتقال پر خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا۔ لوک سبھا میں اسپیکر سمترا مہاجن نے وقفہ صفر کے دوران اپوزیشن ارکان کی ’’کالا دھن واپس لاؤ‘‘ کی نعرہ بازی کا لحاظ کئے بغیر وقفۂ صفر کی کارروائی جاری رکھی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تیقن دیا تھا کہ بیرون ملک جمع کالا دھن برسر اقتدار آنے کے اندرون 100 دن وطن واپس لایا جائے گا لیکن وہ اپنے تیقن پر عمل آوری سے قاصر رہی۔ اسپیکر نے برہم ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے کی خواہش کرتے ہوئے اُنھیں تیقن دیا کہ وہ اِس مسئلہ پر مختلف سیاسی پارٹیوں سے مشاورت کے ذریعہ عاجلانہ مباحث منعقد کرنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن اُن کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اُمور ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ حکومت کو کچھ بھی چھپانا نہیں ہے۔

مودی عوام کو گمراہ کر رہے ہیں: کانگریس
وزیراعظم نریندرمودی کو کالے دھن مسئلہ پر عوام کو ’’گمراہ‘‘ کرنے کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کانگریس نے آج ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا جبکہ اس نے حکومت کو انشورنس بل پر بھی جدوجہد پر مجبور کئے رکھا۔ پارٹی ترجمان شکیل احمد نے کہا کہ یوں تو بی جے پی کالے دھن مسئلہ پر یو پی اے حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا کرتی رہی اور مودی نے کالا دھن واپس لائے جانے پر ہر فرد کو3 لاکھ تا 15لاکھ روپئے کی رقم کا وعدہ کیالیکن اب وہ ان ریمارک سے پھر گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جو تب صدر بی جے پی تھے، حکومت کے اندرون 100 یوم کالا دھن واپس لانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔