نئی دہلی ۔ 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج کہا کہ ترنمول کانگریس بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج جاری رکھے گی جو اس کے مطابق سردھا اسکام کے سلسلہ میں پارٹی کے خلاف شروع کردہ سیاسی انتقام ہے۔ ممتا نے آج قومی دارالحکومت پہنچنے کے بعد کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں سردھا مسئلہ کو اٹھاتے رہیں گے۔
ممتا، صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی عیادت کیلئے دہلی آئی ہیں، جن کی حال میں انجیو پلاسٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کل وہ صدرجمہوریہ کی عیادت کریں گی، جو علیل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے سنٹرل ہال بھی جائیں گی جہاں وہ دوست احباب اور پارٹی ایم پیز سے ملاقات کریں گی۔ ممتا کا دورۂ دہلی ایسے وقت ہورہا ہے جبکہ ٹی ایم سی نے مغربی بنگال کے وزیرٹرانسپورٹ مدن مترا کی سردھا اسکام کے سلسلہ میں سی بی آئی کی جانب سے حالیہ گرفتاری کے بعد بی جے پی کی طرف سے مبینہ سیاسی مخاصمت کے خلاف اپنی مہم میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی جے پی زیرقیادت حکومت کے ارادہ پر سوال اٹھاتے ہوئے ممتا نے کہا ، ’’صرف سردھا کیوں، دیگر چٹ فنڈ کمپنیاں کیوں نہیں ان پر الزامات ہیں … سہارا کیوں نہیں‘‘۔
اس دوران ترنمول کانگریس نے آج وزیرفینانس اور راجیہ سبھا کے لیڈر ارون جیٹلی کے خلاف تحریک مراعات نوٹس دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے سردھا اسکام کی سی بی آئی تحقیقات کے بارے میں ایوان کو گمراہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ سردھا اسکام 2006ء سے شروع ہوا لیکن ہماری حکومت 2011ء کے بعد اقتدار میں آئی۔ نہ صرف بنگال میں بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی اسکامس ہیں جہاں ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ 5 سال پرانا کیس ہے۔ ’’ہم نے جوڈیشیل کمیشن تشکیل دیا ہے، ہم نے اس کمیشن کی سفارش کاملہ کے بعد 5 افراد کو رقم واپس دی ہے لیکن ایسا کہیں اور نہیں ہوا ہے‘‘۔ ممتا نے سردھا اسکام پر کل پارلیمنٹ میں مباحث کیلئے بی جے پی کے مطالبہ پر بھی اعتراض کیا۔