پارلیمنٹ سیشن میں حصول اراضی اور دیگرکئی اہم بلز پیش کئے جائیں گے

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو بلز کی منظوری میں مدد کرنا چاہئے : وینکیا نائیڈو
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : یہ کہتے ہوئے کہ اس ماہ پارلیمنٹ سیشن کے دوران حصول اراضی اور دیگر کئی اہم بلز پیش کئے جائیں گے ۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو ان کی منظوری میں مدد کرنی چاہئے ۔ انہوں نے یہاں اخباری نمائندوں سے کہا کہ اراضی بل وقت کی ضرورت ہے ۔ دنیا تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہندوستان پیچھے نہیں رہ سکتا ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ حصول اراضی بل وسیع تر مشاورت کے بعد لایا گیا جس میں ریاستوں بشمول کانگریس حکومت کی ریاستوں اور دیگر اسٹیٹ ہولڈرس کو شامل کیا گیا لیکن کانگریس مخالفت کی خاطر اس بل کی مخالفت کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے کئی قائدین بشمول کانگریس قائدین جیسے سابق وزیر کامرس آنند شرما اور سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا پرتھوی راج چوہان کی تجاویز کے پیش نظر حصول اراضی بل میں ترمیمات کیے ہیں ۔ لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ کانگریس پارٹی ، سیاسی وجوہات کے لیے اس کی مخالفت کی کوشش کررہی ۔ انہوں نے کانگریس سے کہا کہ محض مخالفت کی خاطر مخالفت نہ کی جائے بلکہ تعمیری اپوزیشن کا رول ادا کیاجائے ۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور وینکیا نائیڈؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس قائد جے رام رمیش نے اراضی بل سے متعلق غلط اطلاعات دی ہیں ۔ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ حصول اراضی بل کے علاوہ حکومت پارلیمنٹ سیشن میں دیگر کئی اہم بلز بشمول جی ایس ٹی بل ، رئیل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن بل ، ان ڈسکلوزڈ فارن انکم اینڈ اسیٹس امپوزیشن آف ٹیکس بل 2015 ، ویر ہاوزنگ کارپوریشن بل ، ریجنل رورل بنکس بل پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ فرانس ، جرمنی اور کناڈا کی ستائش کرتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ تقریبا نو ماہ قبل این ڈی اے حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہندوستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بائیں بازو کی جماعتیں یہ الزام عائد کررہی ہیں کہ مودی سرمایہ داروں کے موافق کام کررہے ہیں جب کہ پورے ملک کی جانب سے وزیر اعظم کی قیادت کی ستائش کی جارہی ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے ، جنہوں نے تلنگانہ میں غیر موسمی بارش سے متاثر ہونے والے مواضعات کا دورہ کیا کہا کہ مرکز کی جانب سے ریاست کی مدد کی جائیگی ۔۔