پارلیمنٹ سرمائی سیشن کا آج آغاز

نئی دہلی ۔ /23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کا کل سے آغاز ہورہا ہے جس میں اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف اپنا ایک مضبوط ایجنڈہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مودی زیرقیادت حکومت نے بی جے پی کے انتخابی وعدوں کو پورا نہیں کیا ہے ۔ اپوزیشن معاشی اصلاحات ایجنڈہ کو اٹھاتے ہوئے عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے کمربستہ ہوگئی ہے ۔ حکومت نے اس سیشن میں پیش کی جانے والی پالیسیوں اور بلوں کی فہرست تیار کرلی ہے ۔ دو آرڈیننس کوئلہ مائینس (خصوصی دفعات) آرڈیننس 2014 ء اور ٹیکسٹائیل انڈر ٹیکنگس نیشنلائیزیشن قانون ترمیم و تحریف آرڈیننس کو تبدیل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ۔ دیگر بل بھی پیش کئے جائیں گے ۔ حکومت کے پارلیمانی امور کے عہدیداروں نے اشارہ دیا ہے کہ گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس بل و ترمیمات برائے حصول اراضی قانون کو بھی اس سیشن میں پیش کیا جائے گا ۔ اپوزیشن کے ایجنڈہ میں بیرونی ملکوں سے کالے دھن کو واپس لانے میں حکومت کی ناکامی کو اٹھانے کا مسئلہ بھی شامل ہے ۔ بی جے پی نے کسان برادری کیلئے جو وعدہ کئے تھے وہ سب پورے نہیں کئے گئے ۔ ایم جی این آر ای جی اے پالیسی کو حذف کرنے کی کوشش اراضی حصول قانون تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش ، ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے چھتیس گڑھ میں نس بندی آپریشن کے دوران خواتین کی اموات ، چین کی دراندازی اور منصوبہ بندی کمیشن کو برخواست کردینے

جیسے مسائل پر اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں آؤاز اٹھائی جائے گی ۔ ان میں سے زیادہ تر مسائل کو اٹھاتے ہوئے سیشن کے دوران دیگر پارٹیاں کانگریس ، جنتاپریوار پارٹیاں اور بائیں بازو پارٹیوں میں اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے گا ۔ وزارت پارلیمانی امور میں پہلے ہی حکومت کے ایجنڈہ میں انشورنس بل پر غور کرنے کا اشارہ دیا ہے اور اس کی منظوری کو یقینی بنایا جائے گا لیکن یہ بل ہنوز سلیکٹ کمیٹی کے پاس ہے ۔ اس کمیٹی کے دو ارکان وزیر بن گئے ہیں ، انہیں پیر کے دن عبوری طور پر تبدیل کیا جائے گا ۔ اس مسئلہ کو بھی اپوزیشن پارٹیاں اٹھائیں گی ۔ بائیں بازو اور جنتاپریوار پارٹیوں نے انشورنس اور جی ایس ٹی بلوں کی مخالفت کی ہے ۔ بی جے پی یو پی اے حکومت کے دور میں اسپانسر کردہ ان بلوں کو منظور کرانے کیلئے کانگریس کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کرے گی ، لیکن کانگریس کے ڈپٹی لیڈر راجیہ سبھا آنند شرما نے بتایا کہ ان کی پارٹی انشورنس بل پر قطعی صورت میں ہی فیصلہ کرے گی ۔ اب تک اس فیصلہ پر کوئی غور و خوص نہیں ہوا ہے ۔ ہند بنگلہ دیش اراضی بل جس کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردوں کے تبادلوں کا معاہدہ ہوا ہے ، کانگریس حمایت کرے گی ۔
اس بل کو ایک سال قبل ہی لایا گیا تھا اس وقت بی جے پی نے اس بل کی تائید نہیں کی تھی کیونکہ مغربی بنگال اور آسام میں بی جے پی کی ریاستی یونٹوں نے بل کی مخالفت کی تھی ۔