پارلیمنٹ اور ورکنگ کمیٹی میں کانگریس کا مخالف تلنگانہ موقف

تلنگانہ سے پارٹی کی دشمنی آشکار، کانگریس قائدین وضاحت کریں: وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤکا بیان

حیدرآباد 24 جولائی (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش راؤ نے کانگریس کی جانب سے آندھراپردیش کو خصوصی موقف سے متعلق ورکنگ کمیٹی اجلاس میں قرارداد کی منظوری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کا مطلب تلنگانہ سے ناانصافی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کانگریس سے سوال کیا کہ وہ خصوصی موقف پر وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر خصوصی موقف کا اعلان تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا مترادف ہے۔ انہوں نے کانگریس قائدین سے سوال کیا کہ تلنگانہ کیلئے کسی بھی پیکیج یا ترقیاتی منصوبہ کا اعلان کئے بغیر کس آندھراپردیش کو خصوصی موقف دیا جاسکتا ہے۔ کانگریس قائدین کو قرارداد کی منطوری کے وقت تلنگانہ کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ خصوصی موقف کے تحت آندھراپردیش کو صنعتی شعبہ میں مختلف رعایتوں کے ساتھ ٹیکس میں رعایت دی جاسکتی ہے۔ اس طرح کی رعایتیں تلنگانہ کو حاصل نہ ہونے کے سبب صنعتی شعبہ میں یہ ریاست پسماندہ ہوجائیگی ۔ انہوں نے تلنگانہ کی کانگریس قائدین سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام سے اس بات کی وضاحت کریں کہ انہوں نے مخالف تلنگانہ قرارداد پر خاموشی کیوں اختیار کرلی ؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آندھراپردیش کے ساتھ تلنگانہ کیلئے بھی مختلف رعایتوں کا اعلان کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو خصوصی موقف کے بارے میں وضاحت کرنی چاہئے کہ کیا یہ رعایتیں صرف آندھراپردیش کو حاصل رہیں گی یا پھر تلنگانہ بھی اس میں شامل رہے گا۔ پولاورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا درجہ دیا گیا لیکن تلنگانہ میں ایک بھی پراجکٹ کو قومی درجہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ تلنگانہ حکومت کالیشورم پراجکٹ کو قومی پراجکٹ کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ کی تقسیم کے سلسلہ میں آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون میں جو وعدے کئے گئے تھے ، ان پر آج تک عمل آوری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس کی قرارداد کی رو سے کانگریس پھر ایک مرتبہ مخالف تلنگانہ ثابت ہوچکی ہے ، وہ تلنگانہ کو تباہ کرکے آندھراپردیش کو ترقی دینے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قومی پارٹیاں بی جے پی اور کانگریس کا رویہ تلنگانہ سے ناانصافیوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے دونوں پارٹیوں پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی ترقی اور عوام کی بھلائی سے دونوں کو کوئی دلچسپی نہیں۔ لوک سبھا میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد و کانگریس ورکنگ کمیٹی اجلاس میں اختیار کردہ موقف سے کانگریس کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ کانگریس دراصل تلنگانہ میں اقتدار کی واپسی کے بارے میں مایوس ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم پر وزیراعظم نریندر مودی کا ریمارک تلنگانہ عوام کے جذبات کو مجروح کرنے والا ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ آندھراپردیش کی تقسیم اس طرح کی گئی جیسے ماں کو قتل کر کے بچے کو بچانے کی کوشش کی جائے۔ ہریش راؤ نے کہاکہ تلگو دیشم رکن پارلیمنٹ جی جئے دیو کی تقریر اور راہول گاندھی کے ریمارکس سے تلنگانہ عوام کو تکلیف ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تلگو دیشم رکن پارلیمنٹ جب آندھراپردیش کی تقسیم کو غیر جمہوری قراردیا تو کانگریس نے ان کی مذمت کیوں نہیں کی ؟ آندھراپردیش کو قرض اور تلنگانہ کو اثاثہ جات حوالے کرنے سے متعلق تلگو دیشم رکن پر کانگریس کی خاموشی معنی خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگو دیشم کی تحریک عدم اعتماد کو کانگریس کی تائید سے تلنگانہ عوام کو ٹھیس پہنچی ہے۔ وزیر آبپاشی نے کہا کہ اگست کے اختتام تک تلنگانہ میں ہر گھر کو مشن بھگیرتا کے تحت صاف پینے کا پانی سربراہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ مشن بھگیرتا اور مشن کاکتیہ اسکیمات کی مقررہ وقت پر تکمیل کے خواہاں ہیں۔ اسی دوران ہریش راؤ نے پٹن چیرو اسمبلی حلقہ کا دورہ کرکے مختلف ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے 12 کروڑ 63 لاکھ سے قومی شاہراہ کے توسیعی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا۔ اسٹاپور جنکشن پر سڑک کی توسیع کا کام ضروری ہے کیونکہ حالیہ عرصہ میں 60 تا 70 افراد حادثات میں ہلاک ہوئے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ آئندہ 6 ماہ میں 6 لائین کی سڑک کی تعمیر کا کام مکمل ہوجائیگا ۔ انہوںنے کہا کہ پٹن چیرو میں 30,000 ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کئے جائیں گے ۔ ایم پی کے پربھاکر ریڈی و رکن اسمبلی مہی پال ریڈی بھی موجود تھے۔