ٹی آر ایس حکومت کی وزارت میں خواتین کی شمولیت کا مطالبہ

صدر قومی بیاک ورڈ کلاس ویمن فیڈریشن ایم بھاگیہ لکشمی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد 21 ڈسمبر (سیاست نیوز) صدر قومی بیاک ورڈ کلاسیس ویمن فیڈریشن شریمتی ایم بھاگیہ لکشمی نے ریاست تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خاتون ارکان اسمبلی کو ریاستی کابینہ میں نظرانداز کردیئے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے پرزور مطالبہ کیاکہ وہ فوری طور پر بی سی طبقہ کے خاتون ارکان اسمبلی کو ریاستی کابینہ میں شامل کرنے کے علاوہ نامزد عہدوں کے انتخاب میں بی سی طبقہ کو 50 فیصد نشستیں الاٹ کئے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ بی سی طبقہ کو کلیان لکشمی اسکیم سے مربوط کیا جائے۔ شریمتی ایم بھاگیہ لکشمی نے آج یہاں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک میں بی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کی تمام تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے کامیاب تحریک چلائی تھی جس کے نتیجہ میں آج ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آئی لیکن چیف منسٹر مسٹرکے چندرشیکھر راؤ نے ریاستی کابینہ میں بی سی طبقہ کی خواتین کو شامل نہ کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ وزیر بہبودی خواتین و اطفال کے قلمدان کو بی سی طبقہ کو دے اور کہاکہ چیف منسٹر کو چاہئے کہ وہ تحریک تلنگانہ میں شریک نہ رہنے والے قائدین کو نامزد عہدوں کے انتخاب سے دور رکھیں۔ اور کہاکہ بی سی طبقہ کے ساتھ نامزد عہدوں کے انتخاب میں انصاف کیا جائے اور کلیان لکشمی اسکیم سے بھی بی سی طبقہ کو استفادہ کی سہولت دی جائے۔ اس موقع پر صدر بھارت ڈائنامکس تلنگانہ ایمپلائز یونین مسٹر وی دانا کرنا چاری، ویمن فیڈریشن قائدین شریمتی پشپا لتا، ڈی لکشمی، پدما، یاداماں، گویند اماں، فرزانہ، کویتا، مکند رادھا، راجیشوری کے علاوہ جئے پرکاش، روی مدیراج بھی موجود تھے۔