ٹی آر ایس ۔ ٹی جے اے سی اتحاد پر فیصلہ نہ ہوسکا

حیدرآباد ۔ 15 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ سیاسی جے اے سی کی اسٹرینگ کمیٹی کے اجلاس میں تلنگانہ میں مقابلہ کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی تائید کے مسئلہ پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔ مباحث غیر مختتم رہے ایک اور میٹنگ 18 اپریل کو منعقد ہوگی ۔ میٹنگ میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے کی مخالفت کی گئی ۔ مخالفت کرنے والے ارکان کا یہ احساس تھا کہ ٹی آر ایس تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لیے تحریک بننے کی بجائے بالکلیہ سیاسی جماعت بن کر رہ گئی ہے ۔ جے اے سی کے دو قائدین نے ٹی آر ایس کی تائید کرنے کی پر زور وکالت کی لیکن دوسرے ارکان نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس نے سماج دشمن عناصر ، دولت مند افراد اور تلنگانہ کے حامیوں کو کچلنے والے قائدین کو چناؤ مقابلے کے لیے ٹکٹس دئیے ہیں اور کہا گیا کہ بات صرف کونڈا سریکھا اور پی مہندر ریڈی کی ہی نہیں ہے ۔ بی گوردھن ریڈی اور جے وینکٹ راؤ کو بھی ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ ان ارکان نے الزام لگایا کہ ٹی آر ایس کی قیادت نے پارٹی کیڈر کو نظر انداز کردیا ایسے میں ٹی آر ایس کی تائید کرنے کا کیا جواز ہے ۔ بعض ارکان نے کانگریس کی تائید کرنے کی وکالت کی کیوں کہ کانگریس نے علحدہ ریاست تلنگانہ تشکیل دی ہے ۔ تلنگانہ سیاسی جے اے سی کو ٹی آر ایس کانگریس اور بی جے پی جیسی پارٹیوں کی ہی تائید کرنا ہے ۔ ان پارٹیوں نے تشکیل تلنگانہ میں اپنا حصہ ادا کیا ہے ۔ تلگو دیشم اور وائی ایس آر کانگریس کی تائید کا سوال ہی نہیں ہے ۔ کیوں کہ ان پارٹیوں نے ریاست کی تقسیم کی مخالفت کی ہے ۔۔