ایک بھی مسلمان شامل نہیں ۔ دو خواتین کو بھی پارٹی ٹکٹ
حیدرآباد۔21مارچ(سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹر سمیتی نے لوک سبھا امیدواروں کا اعلان کردیا ہے۔ چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ نے تمام 17 حلقہ جات لوک سبھا کے امیدواروں کا اعلان کردیا ہے جس میں ایک بھی مسلم امیدوار شامل نہیں ہے۔ حیدرآباد سے پی سریکانت کو امیدوار بنایاگیا ہے جبکہ سکندرآباد سے ریاستی وزیر مسٹر ٹی سرینواس یادو کے فرزند مسٹر ٹی سائی کرن یادو کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ حلقہ پارلیمنٹ ملکا جگری سے ریاستی وزیر سی ایچ ملا ریڈی کے داماد مسٹر ایم راج شیکھر ریڈی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حلقہ کھمم سے آج ہی پارٹی میں شامل ہوئے سابق تلگودیشم رکن پارلیمنٹ مسٹر ناما ناگیشور کو امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حلقہ لوک سبھا محبوب نگر سے جتیندر ریڈی رکن پارلیمنٹ کے بجائے ایم سرینواس ریڈی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ حلقہ پارلیمنٹ کریم نگر سے مسٹر بی ونود کمار کو امیدوار بنایا گیا ہے جنہوں نے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کردیا تھا ۔حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ سے مسٹر جی رنجیت ریڈی کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ حلقہ لوک سبھا نظام آباد سے مسز کویتا کو دوبارہ امیدوار بنایا گیا ہے۔بھونگیر سے ڈاکٹر بی نرسیا گوڑ رکن پارلیمنٹ کو بھی دوبارہ امیدوار بنایا گیا ہے۔ مسٹر پی راملو سابق وزیر ناگر کرنول سے امیدوار ہونگے جبکہ عادل آبادسے جی ناگیش کو امیدوار بنایا گیا ہے۔حلقہ نلگنڈہ سے وامی ریڈی نرسمہا ریڈی امیدوار ہونگے جبکہ حلقہ ورنگل سے مسٹر پی دیاکر کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ محبوب آباد سے مسز ایم کویتا کو ٹی آر ایس نے امیدوار بنایا ہے جبکہ پدا پلی سے مسٹر وینکٹیش نیتھا کنی کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حلقہ ظہیر آباد سے بی بی پاٹل رکن پارلیمنٹ کو امیدوار بنایاگیا ہے۔ حلقہ میدک سے کے پربھا کر ریڈی امیدوار ہونگے ۔ پارٹی نے ریاست کے تمام حلقوں سے مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے لیکن حلقہ لوک سبھا حیدرآباد میں تلنگانہ راشٹر سمیتی امیدوار اور مجلسی امیدوار کے درمیان دوستانہ مقابلہ رہے گا۔ ٹی آر ایس کی فہرست میں دو خواتین ہیں جبکہ دو ریاستی وزراء کے رشتہ داروں کے علاوہ چیف منسٹر کی دختر شامل ہیں۔